سلسلہ احمدیہ — Page 84
84 حضرت خلیفہ اسی کی طرف سے ہوتا ہے۔جو امور قرآن وسنت و حدیث سے ثابت ہوں یا جن کے متعلق حضرت مسیح موعود کا فیصلہ موجود ہو ان کے متعلق استفتاء پر مفتی سلسلہ فتویٰ دیتا ہے۔جس امر میں اجتہاد کی ضرورت ہو ایسے امور کے متعلق مجلس افتاء اجتماعی غور کے بعد فتوی تیار کرتی ہے۔مجلسِ افتاء جو تو کی تیار کرتی ہے اس کا اجراء حضرت خلیفہ اسیح کی توثیق کے بعد ہوتا ہے۔نیز مجلس افتاء ان امور پر تحقیق کرتی ہے جن کے متعلق حضرت خلیفہ اسیح کی طرف سے تحقیق کرنے کا ارشاد ہو (۱۶)۔اس کے ممبران میں علماء کے علاوہ دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے احباب بھی شامل ہوتے ہیں۔(۱) مسند امام احمد بن حنبل، مسند معاذ بن جبل جلد ۵ ص ۲۳۰ (۲) البقرة ۱۸۶ (۳) صحیح بخاری کتاب العلم (۴) صحیح بخاری کتاب العلم (۵) جامع ترمذی، ابواب الفتن ، باب ما جاء فی نزول عیسی ابن مریم (۶) ملفوظات جلد ۲ ص ۴۴۵ (۷) روحانی خزائن جلد ۱۹ ص ۱۳ (۸) روحانی خزائن جلد ۱۹ص۲۱۲ (۹) فقہ احمد یہ مصنفہ حافظ روشن علی صاحب صا (۱۰) الفضل ۴ جنوری ۱۹۱۹ ء ص ۱ (11) الفضل یکم اپریل ۱۹۱۹ء ص ۷ (۱۲) تاریخ احمدیت جلد ششم ص (۱۳) تاریخ احمدیت جلد نهم ص ۴۵۴-۴۵۵ (۱۴) الفضل ۷ نومبر ۱۹۴۸ء ص ۲ (۱۵)الفضل ۱۱ جنوری ۱۹۵۲ء (۱۲) قواعد وضوابط صدرانجمن احمد یہ پاکستان ص ۵۲۵۱