سلسلہ احمدیہ — Page 85
85 تفسیر کبیر کی اشاعت قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم الشان نعمت ہے جو مسلمانوں کو دی گئی اور دوسرے کسی مذہب کی مقدس کتاب اس کے معارف کے قریب بھی نہیں پہنچتی۔قرآن ہی وہ ہتھیار ہے جس سے ہر مخالفانہ حملے کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے " فَلَا تُطِعِ الْكَفِرِينَ وَجَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا ) (۱) یعنی ”پس کافروں کی پیروی نہ کر اور اس (قرآن) کے ذریعہ ان سے ایک بڑا جہاد کر (۱)۔جب فتنوں کے اندھیرے چاروں طرف پھیل رہے ہوں تو قرآن کریم کے نور سے ہی راہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔حضرت علی سے صلى الله روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے برپا ہونے والے فتنے کا ذکر کیا۔حضرت علی نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہوگا۔آپ ﷺ نے فرمایا' کتاب اللہ۔اور پھر قرآن کریم کے فضائل بیان کر کے فرمایا کہ اس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے۔(۲) لیکن افسوس مسلمانوں نے اس عظیم الشان نعمت کی قدر نہیں کی۔خیر القرون کے بعد ا کثر عوام الناس کا کتاب اللہ سے بس اتنا تعلق تھا کہ خوبصورت غلاف میں لپیٹ کر کسی طاق پر سجا دیا یا بہت ہوا تو چوم کر ماتھے سے لگا لیا۔بہت سے مفسرین نے قرآنِ کریم کی قابلِ قدر خدمات کیں لیکن ابتدائی صدیوں کے بعد قرآنِ کریم کی جو تفاسیر لکھی گئیں ان میں بعض میں ایسی غلط اور خلاف عقل روایات بھی شامل کر دی گئیں جو آنحضرت ﷺ اور دیگر انبیاء کی شان کے خلاف تھیں۔بائبل کے بیانات اور یہودیوں کی غیر مصدقہ اور ضعیف روایات کو اپنی تفاسیر میں نمایاں جگہ دی ، جن کی وجہ سے کئی تفاسیر قصے اور کہانیوں کا رنگ اختیار کر گئیں۔اس کے علاوہ نا سمجھی کی وجہ سے بعض آیات کو منسوخ قرار دے دیا گیا۔قرآنی علوم کی طرف بے تو جہی اور ان عوامل کی وجہ سے مسلمانوں کی اکثریت وقت کے ساتھ قرآنی علوم کی روشنی سے محروم ہوتی چلی گئی۔جب دنیا میں یوروپی اقوام بالخصوص انگلستان کا غلبہ شروع ہوا تو ان کے سیاسی اور عسکری تسلط کے ساتھ عیسائی پادری عیسائیت کی تبلیغ کے لیئے پوری دنیا میں پھیل گئے۔چونکہ اسلام کی تعلیم