سلسلہ احمدیہ — Page 83
83 اشخاص جماعت میں از خود فتوی دینا شروع کر دیں تو اس سے وحدت بھی قائم نہیں رہ سکتی اور بالآخر تفرقہ پیدا ہوتا ہے۔جب حضرت خلیفہ اُسیح الثانی نے ۱۹۱۹ء میں صدر انجمن احمدیہ میں اہم انتظامی تبدیلیاں کیں اور نظارتوں کا قیام عمل میں آیا، تو اس کے ساتھ ہی جماعت کی ضروریات افتاء کو مد نظر رکھتے ہوئے ، اس کام کے لئے حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب، حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب ، اور حضرت حافظ روشن علی صاحب مقرر کئے گئے۔اور اس کے ساتھ حضور نے هدایت جاری فرمائی کہ ان کے علاوہ اور کوئی فتویٰ نہیں دے سکے گا۔(۱۰۔۱۱) تاہم افتاء کے زیادہ تر فرائض حضرت حافظ روشن علی صاحب سرانجام دیتے رہے اور آپ نے ۱۹۲۳ء میں فقہ احمدیہ کے نام سے ایک مختصر کتاب بھی تحریر فرمائی جس میں روز مرہ کے اہم فقہی مسائل آسان فہم انداز میں بیان کئے گئے۔جون ۱۹۲۹ء میں آپ کے انتقال کے بعد افتاء کی یہ ذمہ واری حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب ادا کرتے رہے۔(۱۲) ۱۹۴۳ء کے آخر میں افتاء کمیٹی کے نام سے ایک نیا ادارہ وجود میں آیا۔جس میں حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کو مفتی سلسلہ اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب اور مولانا ابوالعطاء صاحب کو ممبر مقرر کیا گیا۔جون ۱۹۴۷ء میں حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کے انتقال کے بعد مکرم ملک سیف الرحمن صاحب کو مفتی سلسلہ مقرر کیا گیا۔تقسیم ہند کے معاً بعد ،نومبر ۱۹۴۸ء میں ، دفتر افتاء کی رپورٹ پر حضور نے مجلسِ افتاء کو قائم فرمایا۔(۱۳) مفتی سلسلہ کے علاوہ اس کے چھ اور اراکین مقرر کئے گئے۔اس کے فرائض میں افتاء کے معاملے میں مفتی سلسلہ کو مشورہ دینا، فقہ اسلامیہ بالخصوص اختلافی مسائل کے بارے میں اپنے مطالعے کو وسیع کرنا اور علم الخلاف کا مطالعہ کرنا شامل تھے۔دفتر افتاء کے لئے ضروری تھا کہ وہ ہراہم مسئلے پر کم از کم تین ممبران سے مشورہ لے لیکن مفتی سلسلہ کے لئے یہ مشورہ قبول کرنا ضروری نہیں تھا۔البتہ اگر تمام ممبران متفق الرائے ہوں اور مفتی سلسلہ کو پھر بھی اس رائے سے اختلاف ہو تو اس معاملے کو آخری فیصلے کے لئے حضرت خلفہ اسیح کی خدمت میں پیش کرنا ضروری تھا۔(۱۴)۱۹۵۲ء کے آغاز میں مجلس افتاء میں مزید توسیع کی گئی۔اب تک سلسلے کے علماء اس کے ممبر ہوتے تھے۔اس توسیع کے بعد سے دوسرے شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اہلِ علم بھی اس کے رکن بننے شروع ہوئے۔۱۹۵۲ء میں دو وکلاء کو اس کا ممبر بنایا گیا۔(۱۵) اب ہر سال اس کے اراکین کا اعلان