سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 66 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 66

99 66 پورے ہورہے تھے۔یقیناً یہ اپنے رب کے حضور شکر کرنے اور خوشیاں منانے کا موقع تھا۔سب سے پہلے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ اس سال کو جماعت جو بلی کے سال کے طور پر منائے اور آپ نے حضرت مصلح موعود کی اجازت سے جلسہ سلانہ ۱۹۳۷ء کے موقع پر احباب جماعت کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ ہمارے کامیاب دینی نظام پر یہ عرصہ گذرنے پر جماعت اللہ تعالیٰ کے شکر کا اظہار کرے اور اس خوشی کے موقع پر حضور اقدس کی خدمت میں ایک ایسی رقم کا نذرانہ پیش کیا جائے جو اس سے قبل کی جماعت کی تاریخ میں جمع نہ کی گئی ہو۔اور حضور سے یہ درخواست کی جائے کہ حضور اس رقم کو جس طرح پسند فرما ئیں خرچ کریں۔اس کے بعد ۱۹۳۹ء کی مجلس مشاورت میں اس ضمن میں سفارشات حضور کی خدمت میں پیش کی گئیں کہ خلافت جو بلی کو کس طرز پر منایا جائے۔حضور کی منظوری سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ جلسہ سالانہ ۱۹۳۹ء کو جوبلی کے جلسے کے طور پر منایا جائے اور اس موقع پر جو بلی کی تقریبات منعقد کی جائیں۔ایک اہم فیصلہ یہ بھی کیا گیا کہ اس مبارک موقع پر جماعت احمدیہ کا ایک جھنڈ ا مقرر کیا جائے جسے جوبلی جلسہ کے موقع پر حضرت مصلح موعود اپنے دست مبارک سے نصب فرما ئیں۔ان تقریبات کی تیاری کے لیے ایک کمیٹی مقرر کی گئی جس کے صدر حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب تھے اور آپ کے بیرونِ ہند جانے کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اجلاسات کی صدارت کرتے رہے اور حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد اس کے سیکریٹری کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔(۲) لوائے احمدیت کی تیاری: قوموں کی زندگی میں ان کا جھنڈا ان کی امنگوں اور ولولوں کی ایک علامت ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے بھی بہت سی مہمات میں صحابہ کو جھنڈا عنایت فرمایا تھا۔خیبر کے موقع پر آپ نے فرمایا تھا کہ میں آج اس شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول کو دوست رکھتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس کو دوست رکھتے ہیں اور پھر آپ نے حضرت علی کو جھنڈا عنایت فرمایا (۳)۔جب