سلسلہ احمدیہ — Page 639
639 یقین ہے کہ ان کے لگائے گئے الزامات درست ہیں تو وہ مؤکد بعذاب حلف اُٹھائیں اور پھر خدائی فیصلہ کا انتظار کریں۔لیکن چیف قاضی نے اس کے جواب میں خاموش رہنا مناسب سمجھا۔(۵) ۱۷ نومبر ۱۹۴۵ تکو میں مکرم نورالحق صاحب انور صاحب مشرقی افریقہ میں جماعت کے نئے مبلغ کے طور پر خدمات سرانجام دینے کے لئے ممباسہ پہنچے۔(1) ۱۹۴۴ء میں جب ٹبو را میں جماعت کی مسجد کا افتتاح ہوا تو اس وقت بہت سے احباب جمع ہوئے اور آپس میں صلاح مشورہ کے بعد یہ طے پایا کہ مشرقی افریقہ کو ہر سال اپنا ایک جلسہ منعقد کرنا چاہیئے۔چنانچہ اس فیصلہ کی روشنی میں دسمبر ۱۹۴۵ء میں جماعت احمد یہ مشرقی افریقہ کا پہلا جلسہ نیروبی میں منعقد ہوا۔اس میں کینیا کے علاوہ ٹانگانیکا اور یوگنڈا کے احمدیوں نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر جماعتی مبلغین اور عہدیداران کی ایک مشاورت بھی منعقد ہوئی اور تبلیغ اور اشاعت کے کام کو وسعت دینے کے لئے فیصلے کئے گئے۔(۷) ۱۹۴۵ء میں مشرقی افریقہ میں کینیا کے علاقے میں نیروبی ،کسومو اور ممباسہ کے علاقہ مین فعال جماعتیں قائم تھیں۔یوگنڈا کی جماعت چند افراد پر مشتمل تھی اور اس وقت یوگنڈا کے احمدی مختلف جگہوں پر بکھرے ہوئے تھے۔کمپالا اور جنجہ میں کچھ احباب رہتے تھے مگر ابھی یہ جماعت مشرقی افریقہ کی جماعتوں میں تبلیغ کے میدان میں پیچھے تھی۔تنزانیہ میں ٹورا ، دارالسلام اور ٹانگہ کے مقامات پر فعال جماعتیں موجود تھیں۔اور ان کے علاوہ موانزہ کے شہر میں بھی جماعت تبلیغی مساعی کر رہی تھی۔(۸) ۱۹۴۵ء میں ہی بو کوبا کے مقام پر نئی جماعت قائم ہوئی۔یہاں پر چند احباب نے احمدیت قبول کی تو مکرم امری عبیدی صاحب کو بوکو با بھجوایا گیا۔غیر از جماعت مسلمانوں نے مخالفت شروع کر دی لیکن مقامی جماعت نے استقامت سے ان حالات کا مقابلہ کیا۔(۹) دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد اب مختلف ممالک میں جماعت کے مبلغین بھجوائے جا رہے تھے۔چنانچہ فروری ۱۹۴۶ء میں مشرقی افریقہ کے لئے چھ مبلغین بھجوائے گئے۔یہ چھ مبلغ مکرم ضیاء اللہ صاحب، مکرم ولی اللہ شاہ صاحب، مکرم چوہدری فضل الہی ، مکرم مولوی عنایت اللہ صاحب خلیل ،مکرم مولوی جلال الدین صاحب قمر اور مکرم مولوی حکیم محمد ابراہیم صاحب تھے۔(۱۰) یہ مجاہدین ۲۵ فروری کو ممباسہ پہنچے۔پھر دار السلام سے ہوتے ہوئے ٹھورا پہنچ گئے۔یہاں انہوں نے