سلسلہ احمدیہ — Page 638
638 گورنر تک پہنچا بعض حکام بھی مخالفین کا ساتھ دے رہے تھے ، چنانچہ حکومت نے مسجد کی تعمیر رکوا دی۔(۱) ۱۹۴۲ء میں حکومت نے اس سے بہتر جگہ جماعت کو مسجد کے لئے مہیا کر دی۔پھر کام شروع ہوا تو افریقن کاری گروں نے مخالفت کے باعث کام کرنے سے انکار کر دیا۔لیکن خدا تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ حکومت نے اطالوی قیدیوں کو مزدوری کرنے کی اجازت دے دی اور ان کے کاری گروں نے مسجد کا کام مکمل کیا۔اور اس طرح با وجود مخالفت کے۱۹۴۴ء میں ٹبو را میں جماعت کی مسجد تعمیر ہو گئی۔(۲) حضرت مصلح موعود کا ارشاد تھا کہ جماعت پوری دنیا میں سیرت پیشوایان مذاہب کے جلسے منعقد کرے۔اس ارشاد کی تعمیل میں ٹورا میں پہلی مرتبہ ۲۵ اکتو بر۱۹۴۲ء کو یوم پیشوایان مذاہب کا جلسہ منعقد ہوا۔(۳) مشرقی افریقہ میں لٹریچر بھی شائع کیا جارہا تھا تا کہ اس کے ذریعہ تبلیغ کے کام میں وسعت پیدا کی جاسکے۔چنانچہ ۱۹۴۳ ء تک ایک انگریزی پمفلٹ Ye were told but I tell you ، سواحیلی اور گجراتی میں ٹریکٹ آسمانی آواز ، تحفہ شہزادہ ویلز کا سواحیلی ترجمه، کتاب & Islam Slavery ، سواحیلی میں کتاب اسباق الاسلام اور جنگ کے متعلق حضرت مسیح موعود کی پیشگوئیوں پر مشتمل ایک اشتہار Jihadarini جیسے امری عبیدی صاحب نے تیار کیا گیا تھا شائع کئے گئے تھے۔۱۹۴۳ء کا ایک اہم واقعہ یہ بھی ہے کہ اس سال اکتوبر سے مکرم و محترم امری عبیدی صاحب نے با قاعدہ جماعت احمدیہ کے معلم کے طور پر اپنی خدمات کا آغاز کیا اور دیگر فرائض کے علاوہ کتاب احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا ترجمہ بھی شروع کیا۔(۴) ۱۹۴۴ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب کشتی نوح کا سواحیلی ترجمہ مکمل ہوا۔اور بعد میں شیخ مبارک احمد صاحب نے اسے طبع کرایا۔مشرقی افریقہ میں جماعت کی ترقی کو دیکھتے ہوئے کینیا کے مسلمان لیڈر جنہیں وہاں پر چیف قاضی کہا جاتا تھا، نے جماعت کی مخالفت شروع کی۔اور دو ٹریکٹ شائع کئے اور ان مین بہت بدزبانی سے کام لیا۔ان کے جواب میں جماعت کے مبلغ نے اشتہار شائع کئے کہ اگر چیف قاضی کو