سلسلہ احمدیہ — Page 640
640 کچھ عرصہ رہ کر سواحیلی زبان سیکھی۔(۱۱) اس مرحلہ کے بعد مکرم سید ولی اللہ شاہ صاحب کو کسومو میں، مکرم فضل الہی صاحب بشیر اور مکرم عنایت اللہ صاحب خلیل کو نیروبی میں مکرم مولوی جلال الدین صاحب قمر اور مکرم حکیم محمد ابراہیم صاحب کو ٹا نگانیکا میں اور مکرم مولانا نور الحق صاحب انور کو یوگنڈا میں متعین کیا گیا۔(۱۲) اُس دور میں مشرقی افریقہ میں ہندوستان سے آئے ہوئے لوگوں کی بڑی تعداد آباد تھی اور خاص طور پر شہر میں ان کی موجودگی زیادہ تھی۔شروع میں وہاں زیادہ تر جماعت پنجابیوں اور ہندوستان سے آنے والوں پر مشتمل تھی اور مقامی باشندوں میں تبلیغ زیادہ توجہ کا تقاضہ کرتی تھی۔جیسا کہ مغربی افریقہ میں مقامی باشندوں کو تبلیغ کے شاندار نتائج نکل رہے تھے۔حضور نے ۱۹۴۸ء میں خصوصیت سے مشرقی افریقہ کے مبلغین کو مقامی آبادی میں تبلیغ کی طرف توجہ دلائی۔حضور نے ایک خطبہ میں فرمایا ایسٹ افریقہ میں ہماری جماعت بہت مضبوط تھی۔مگر مقامی باشندوں میں تبلیغ نہیں کی جاتی تھی۔اور کہہ دیا جاتا تھا کہ مقامی باشندے ہماری بات ہی نہیں سنتے۔میں انہیں یہی کہتا تھا کہ تم اپنی بات انہیں سناتے ہی نہیں ہو۔اس لئے پنجابیوں میں اپنی زبان میں تبلیغ کر لینا زیادہ آسان ہے۔ہندوستانیوں میں تبلیغ کر لینا زیادہ آسان ہے۔میں نے شیخ مبارک احمد صاحب کو ہدایت دی کہ وہ افریقوں میں بھی تبلیغ کی طرف توجہ دیں اور خدا تعالیٰ نے انہیں توفیق دی۔۔۔۔اب وہاں ہمارے کافی مبلغین کام کر رہے ہیں۔ویسٹ افریقہ میں ہزاروں مقامی لوگ جماعت میں داخل ہیں۔غرض جب تک مقامی لوگوں میں تبلیغ نہیں کی جاتی۔اس وقت تک تبلیغ کے کوئی معنے ہی نہیں۔باہر کے لوگ آئے اور چلے گئے یا کسی وقت ملک کے لوگوں کو جوش آیا تو انہیں نکال دیا۔مگر مقامی لوگوں کو تو وہ نہیں نکال سکتے۔اس لئے تبلیغ کا زور زیادہ مقامی لوگوں پر دینا چاہئیے۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے۔(۱۳) دو تین دہائیوں میں حضور کا ارشاد حرف بحرف پورا ہوا۔کینیا اور تنزانیہ سے اکثر ایشیائی باشندے نقل مکانی کر کے برطانیہ یا دوسرے ممالک میں جا کر آباد ہو گئے اور جیسا کہ ہم بعد میں