سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 578 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 578

578 ٹوگو میں جماعت کا قیام: ٹو گومغربی افریقہ کا ایک ملک ہے جو ۱۹۵۸ء میں فرانسیسی تسلط سے آزاد ہوا تھا۔یہاں پر اکثریت مقامی مذہب سے وابستہ ہے۔عیسائی اور مسلمان بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں لیکن مسلمانوں کی نسبت عیسائی بہت زیادہ بااثر تھے۔یہاں پر حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر سب سے پہلے مکرم مرزا لطف الرحمن صاحب کو دسمبر ۱۹۶۰ء میں بطور مبلغ بھجوایا گیا۔انہوں نے وہاں پہنچ کر مختلف با اثر شخصیات سے رابطے شروع کئے اور انہیں جماعت کا لٹریچر پیش کیا اور جماعت کا تعارف کرایا۔آپ کا قیام وہاں کے دارالحکومت لومے میں تھا۔وہاں کے مسلمان بہت زیادہ پسماندہ حالت میں زندگی بسر کر رہے تھے اور ان کی نسبت عیسائی آبادی ملک کی سیاست اور معیشت پر چھائی ہوئی تھی۔جماعت کا مشن اسلام کی تبلیغ کے لئے ایک منظم کوشش تھی۔مکرم مرزا لطف الرحمن صاحب کو زیادہ عرصہ وہاں پر کام کرنے کا موقع نہ ملا۔کیونکہ جون ۱۹۶۱ء میں حکومت نے انہیں ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔اس پر جب جماعت کی طرف سے احتجاج کیا گیا تو ان کی طرف سے یہ لا یعنی الزام لگایا گیا کہ آپ کے مبلغ ملک کی سیاست میں دخل دے رہے تھے۔دراصل بعض حلقے اس بات سے خائف تھے کہ کہیں یہاں کے مسلمان منظم نہ ہو جائیں اور جماعت کے مبلغ کو نکلوانے کے پیچھے چرچ کا بھی ہاتھ تھا۔لیکن احتجاجی خطوط کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ حکومت نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ جماعت کوئی دوسرا مبلغ وہاں پر بھجوا سکتی ہے۔چنانچہ ۲۹ دسمبر ۱۹۶۱ء کو مکرم قاضی مبارک احمد صاحب ٹو گو پہنچے اور ایک مکان کرایہ پر لے کر تبلیغ شروع کی۔اور آپ کی کاوشوں سے وہاں پر ایک مختصر سی جماعت بن گئی اور بعض بااثر لوگوں نے جن میں ایک سابق وزیر صاحب بھی شامل تھے احمدیت قبول کی۔مکرم قاضی مبارک احمد صاحب سوا تین سال کے بعد واپس ربوہ تشریف لے آئے اور آپ نے اپنے بعد وہاں کے ایک مخلص احمدی مکرم محمود ا گا نڈی صاحب کو تبلیغ اور تربیت کے لئے مقرر کیا۔(۲۱) (۱) تاریخ ٹو گومشن مرتب کردہ وکالت تبشیر ربوہ (٢) الفضل ۲۹ اگست ۱۹۶۴ء ص ۴،۳