سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 579 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 579

579 نگران بورڈ کا قیام ۱۹۶۲ء کی مجلس شوری میں یہ تجویز پیش ہوئی کہ ایک تحقیقاتی کمیشن مقرر کیا جائے جو صدر انجمن احمد یہ تحریک جدید اور وقف جدید کے کام اور دفاتر کا معائنہ کرے اور شکایات پر غور کرے۔اس تجویز کے متعلق سب کمیٹی نے یہ مشورہ پیش کیا کہ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی منظوری سے ایک ایسا بورڈ مقرر ہو جو صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید اور وقف جدید کے کاموں کی نگرانی کرے اور ان تین انجمنوں میں رابطہ پیدا کرے۔اور جماعتوں سے تجاویز حاصل کرے تا کہ تینوں ادارہ جات میں پہلے سے بڑھ کر ترقی ہو۔اس بورڈ کے سات ممبران ہوں۔یعنی صدر انجمن احمد یہ تحریک جدید اور وقف جدید کے صدر صاحبان اور جماعت سے تین دیگر نمائیندگان اس میں شامل ہوں اور حضور سے درخواست کی جائے کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو اس کا صدر مقرر فرمایا جائے۔اور اس بورڈ کے صدر صاحب ہی دیگر تین نمائیندگان کو منتخب فرما لیں۔جب یہ تجویز مجلس مشاورت میں پیش ہوئی تو حضرت مصلح موعوددؓ کی بیماری کی وجہ سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اس اجلاس کی صدارت فرما رہے تھے۔آپ نے فرمایا کہ میں ذاتی طور پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں خود صدرانجمن احمد یہ کا ممبر ہوں بلکہ محکمانہ لحاظ سے میں صدر انجمن احمد یہ اور ناظر صاحب اعلیٰ کے بھی ماتحت ہوں۔اس لئے میرے خیال میں میرا نام اس میں زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔اس طرح محکمانہ نمائیندگی بڑھ جائے گی اور بیرونی جماعتوں کو احساس ہوگا کہ شاید نگرانی کا کام پوری طرح نہیں ہو رہا۔اس کے بعد مختلف نمائیندگان مجلس شوری نے اپنی اپنی آراء کا اظہار کیا اور دیگر باتوں کے علاوہ اس رائے کا اظہار کیا کہ یہی مناسب ہو گا کہ قمرالانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اس کی صدارت فرمائیں مجلس مشاورت میں اس سفارش کی منظوری کے بعد اسے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں پیش کیا گیا اور حضور کی منظوری کے ساتھ یہ فیصلہ ہوا کہ نگران بورڈ کے وہ تمام فیصلہ جات جن میں صدر صاحب نگران بورڈ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی شمولیت اور اتفاق رائے شامل ہو، صدر انجمن احمد یہ اور مجلس تحریک جدید اور مجلس وقف جدید کے لئے واجب العمل ہوں گے اور صدر صاحب