سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 577 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 577

577 احمدیہ لائیبیریا کے ایک وفد نے صدر جمہوریہ گنی جناب شیخو ٹورے صاحب سے ملاقات کی اور جماعت کا لٹریچر پیش کیا اور جماعت احمدیہ کا تعارف کرایا۔صدر گنی نے شکر یہ ادا کیا اور سرسری طور پر اظہار کیا کہ جماعت ان کے ملک میں بھی مشن کھولے اور عربی اور دینیات کے مدر سے قائم کرے۔(۱) ۲۰ مارچ ۱۹۶۱ء کو مکرم حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب عارضی پر مٹ پر گنی پہنچے۔اور ایک لبنانی کتب فروش کے ہاں ٹھہرے۔انہوں نے یہ مکان کرایہ پر لیا ہوا تھا۔جلد مالک مکان نے مکان خالی کرالیا۔مجبوراً مکرم حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب کو ہوٹل میں مقیم ہونا پڑا۔گنی میں تبلیغ سے پہلے با قاعدہ سرکاری اجازت لینی پڑتی ہے ، اس لئے فی الحال تبلیغ کے راستے میں بہت مشکلات حائل تھیں۔عموماً جب کوئی تبلیغی بات ہوتی تو یہ سوال کیا جاتا کہ کیا آپ نے تبلیغ کے لئے اجازت لی ہوئی ہے؟ ان حالات میں روابط قائم کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ان کوششوں کے نتیجے میں گنی میں سب سے پہلے مکرم انور محمد کما را صاحب بیعت کر کے جماعت میں داخل ہوئے۔یہ دوست حافظ صاحب کے ساتھ نمازیں پڑھتے اور دینی علم حاصل کرتے۔اندرونِ ملک ایک شہر Kindia میں بھی دورہ کر کے تبلیغ کی گئی اور لٹریچر تقسیم کیا گیا۔۲۴ نومبر ۱۹۶۱ء تک تین احباب احمدیت میں داخل ہو چکے تھے۔مگر دسمبر ۱۹۶۲ء میں وزارت داخلہ نے اطلاع دی کہ حکومت جماعت کو یہاں مشن کھولنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔چنانچہ ۱۴ فروری ۱۹۶۲ء کو واپس سیرالیون تشریف لے گئے۔بعد میں سیرالیون کے ایک احمدی مکرم فایا کسی صاحب جو آنریری مبلغ کے طور پر کام کر رہے تھے اور سلسلہ کا لٹریچر بھی فروخت کیا کرتے تھے۔اس سلسلہ میں گنی گئے اور وہاں پر دارالحکومت کوناکری سے چالیس میل دور پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا اور چار روز بعد رہا کر کے واپس سیرالیون بھیجوا دیا۔اس طرح انہیں گنی میں احمدیت کا پہلا اسیر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔(۲) (1) روح پرور یادیں مصنفہ مولوی محمد صدیق امرتسری صاحب ص ۵۳۱ (۲) تاریخ گنی مشن مرتب کرده وکالت تبشیر ربوه