سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 503 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 503

503 اور ۲۸ جولائی ۱۹۵۶ء کو مولوی عبد الوہاب صاحب کے منافقانہ پروپیگنڈا کے متعلق شہادتیں الفضل میں شائع کر دی گئیں۔اس سے یکلخت اس سازش سے پردہ ہٹ گیا اور اس میں ملوث لوگ ننگے ہو کر سامنے آگئے۔بہت سے لوگ اپنی اپنی جگہ پر یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ یہ باتیں صرف ان کے محدود حلقے میں ہی کی گئیں ہیں لیکن ان شہادتوں سے یہ امر سب پر عیاں ہو گیا کہ یہ پراپیگینڈا وسیع پیمانے پر اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جا رہا ہے۔اور کچھ ہاتھ ان کٹھ پتلیوں کو حرکت دے رہے ہیں۔حضور نے اس بات پر بھی اظہار ناراضگی فرمایا کہ جب مختلف لوگوں اور ذمہ دار احباب کے علم میں یہ باتیں آچکی تھیں تو ان کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئیے تھا بلکہ فوراً حضور کے علم میں لانا ضروری تھا یا جماعتی عہد یداروں کو مطلع کرنا چاہیئے تھا۔یہ صورت حال فتنہ پردازوں اور ان کے آقاؤں کے لئے بہت پریشان کن تھی کیونکہ جس قسم کی وسوسہ اندازی وہ کر رہے تھے وہ صرف اس صورت میں کارگر ہو سکتی تھی جب کہ اُن کے اصلی چہرے لوگوں سے پوشیدہ ہوں مگر اب ان کی حقیقت کھل کر سب کے سامنے آ رہی تھی۔جلد ہی تمام جماعتوں ، جماعتی اداروں اور احباب جماعت نے انفرادی طور پر بھی حضور کی خدمت میں اپنا اظہار وفاداری پیش کیا اور اس مہم کو چلانے والوں سے مکمل بیزاری ظاہر کی۔یہ رد عمل اتنا واضح اور شدید تھا کہ اس سے فتنہ پروروں کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ان کی سازش کا جال بڑی تیزی سے بکھر رہا تھا۔جیسا کہ حضرت عثمان کے عہد میں ہوا تھا ، جب مفسدین اپنے آپ کو گھر اہوا پاتے تو فوراً معافیاں مانگنے پر آ جاتے اور کچھ دیر بعد پھر ریشہ دوانیاں شروع کر دیتے ، اس مرحلے پر مولوی عبد الوہاب صاحب نے حضور کی خدمت میں ایک خط تحریر کیا اور درخواست کی اسے بھی شائع کر دیا جائے۔اس میں لکھا کہ اصل میں اللہ رکھا کے متعلق ان کا خیال تھا کہ اسے معافی مل چکی ہے، اس لئے انہوں نے اس کے خط کا جواب دیا۔ورنہ وہ ہر طرح سے خلافت کے دامن سے وابستہ ہیں۔مگر انہوں نے ان شہادتوں کا کوئی ذکر نہ کیا جن کی رو سے وہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے خلاف زہرا گلتے رہے تھے۔مگر چونکہ یہ شہادتیں بہت سے لوگوں کی تھیں اور روز بروز ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا، اس لئے شاید انہیں ان سب کی جھوٹی تردید کی ہمت نہ ہوئی ہو۔ان کا خط الفضل میں شائع کر دیا گیا اور ساتھ ہی حضور کا جواب بھی شائع ہوا۔اس میں حضور نے ان کی توجہ ان بیسیوں حلفیہ شہادتوں کی طرف مبذول کرائی جو ان کی کاروائیوں کے