سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 504 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 504

504 متعلق الفضل میں شائع ہو رہی تھیں اور جن کے متعلق انہوں نے اپنے خط میں کوئی وضاحت پیش نہیں کی تھی۔اس کے آخر میں حضور نے تحریر فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو الہام ہو ا تھا جسے حضرت اُم المؤمنین نہیں سمجھی تھیں اور گھبرا گئی تھیں۔حضرت مسیح موعود نے یہ الہام لکھ کر حضرت خلیفہ اول کو بھجوایا تھا اور حضرت خلیفہ اول نے اسے پڑھ کر حضرت ام المؤمنین کو تسلی دی تھی کہ یہ الہام آپ کے لئے برا نہیں ہے۔اس الہام کا مضمون یہ تھا کہ جب تک حضرت خلیفہ اول اور آپ کی بیوی زندہ رہیں گے آپ کی اولاد سے حسن سلوک کیا جائے گا لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ ان کو ایسا پکڑے گا کہ پہلے کسی کو نہیں پکڑا ہو گا۔اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر اس طرح پر ظاہر ہوئی کہ حضرت خلیفہ اول کی بیگم حضرت اماں جی کی زندگی تک یہ فتنہ دبارہا مگر ان کی وفات کے بعد جلد ہی ظاہر ہو گیا۔حضور نے تحریر فرمایا کہ میں نے آپ کے ہاتھ سے گذشتہ میں سال میں بہت سی خنجریں کھائی ہیں مگر اب چونکہ مسیح موعود کے کلام اور کی حفاظت اور وقار کا سوال تھا اس لئے مجھے بھی جواب دینا پڑا۔اگر وہ کڑوا لگتا ہے تو اپنے آپ کو ملامت کریں یا موت کے بعد حضرت خلیفہ اول کی ملامت سن لیں۔(۲۴) یہ معاملہ ایسا نہیں تھا کہ محض ایک معافی مانگنے پر اسے ختم متصور کیا جاتا۔جماعت کے خلاف ایک طویل عرصہ ایک منظم سازش جاری رکھی گئی تھی اور بار بار کی پردہ پوشی کے باوجود یہ لوگ اپنی سازشوں میں بڑھتے ہی گئے تھے۔اس مرحلہ پر بعض سادہ مزاج احمدی بھی یہ خیال کر رہے تھے کہ شاید یہ فتنہ اتنا زیادہ سنگین نہیں کہ اس پر اتنی توجہ دی جائے۔حضور نے اپنے ایک پیغام میں فرمایا د بعض کمزور طبع احمدی کہتے ہیں کہ کیا چھوٹی سی بات کو بڑھا دیا گیا ہے۔لاہور کا ہر شخص جانتا ہے کہ عبدالوہاب فاتر العقل ہے۔پھر ایسے شخص کی بات پر اتنے مضامین اور اتنے شور کی ضرورت کیا تھی۔حضرت عثمان کے وقت میں جن لوگوں نے شور کیا تھا۔ان کے متعلق بھی صحابہ یہی کہتے تھے کہ ایسے زئیل آدمیوں کی بات کی پرواہ کیوں کی جاتی ہے۔۔پھر وہ لوگ بتائیں کہ حضرت عثمان کے وقت میں شرارت کرنے والے لوگوں کو حقیر قرار دینے والے لوگ کیا بعد میں اسلام کو جوڑ سکے۔اگر وہ اس وقت منافقوں کا مقابلہ