سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 502 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 502

502 سے وقتی طور پر ناراض ہوئے تو یہ اللہ رکھا اُن کے پاس کو ہاٹ جا پہنچا اور ان کو مل کر کہنے لگا کہ دیکھیں میاں ناصر احمد صاحب کو خلیفہ بنانے کی سازش کی جارہی ہے ، حالانکہ حق تو میاں بشیر احمد صاحب کا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے ان صاحبزادے نے جب یہ سنا تو مومنانہ رویہ دکھاتے ہوئے سختی سے اس کی لغویات کو رد کر دیا اور اسے اپنے پاس ٹھہر نے بھی نہیں دیا۔اور فوراً سارا واقعہ لکھ کر حضور کی خدمت میں بھجوا دیا۔ان سے رابطہ کرنے والوں کو معلوم نہیں تھا کہ وہ اس وقت تک دفتر نہیں جاتے تھے جب تک حضور کی خدمت میں معافی کا خط سپر د ڈاک نہ کر دیں۔اور روزانہ ایسا ہی کرتے رہے جب تک حضور کی ناراضگی دور نہیں ہوگئی۔(۲۱) جیسا کہ حضرت عثمان کے وقت میں ہوا تھا یہ مفسدین بھی کبھی آئندہ ہونے والے خلیفہ کے لئے کسی کا نام لیتے اور کبھی کسی کا۔لیکن اب ایک پراپیگنڈا مسلسل کیا جا رہا تھا کہ اگر آئندہ مرزا ناصر احمد صاحب کو خلیفہ بنایا گیا تو ہم بیعت نہیں کریں گے بلکہ ہم تو صرف مولوی عبد المنان صاحب کو ہی خلیفہ تسلیم کریں گے۔(۲۲) اور تو اور ان کے بعض ایجنٹ عیسائی بھی تھے جو احمدیوں سے مل کر کہتے تھے کہ حضرت مصلح موعود اپنے بیٹوں کو آگے لانے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ مولوی عبدالمنان صاحب مرزا ناصر احمد صاحب سے زیادہ عالم اور موزوں ہیں۔حالانکہ ایک عیسائی نہ آنحضرت پر ایمان لائے اور نہ حضرت مسیح موعود پر ، اسے آپ کی خلافت سے کیا دلچسپی ہوسکتی تھی۔(۲۳) فتنہ بے نقاب کیا جاتا ہے: کئی دہائیوں سے یہ گروہ حضور کو تکالیف پہنچا رہا تھا لیکن حضور حضرت خلیفہ انبیع الاول کی محبت اور احترام کی وجہ سے پردہ پوشی سے کام لے رہے تھے اور ان کی اصلاح کے لئے کوششیں فرما رہے تھے۔مگر اب اس سازش کا وہ رخ ظاہر ہو رہا تھا جس سے واضح ہوتا تھا کہ اب ان کو آلہ کار بنا کر مخالفین نظام خلافت پر ایک خوفناک حملہ کرنا چاہتے ہیں اور عبد اللہ بن سبا کی طرح جگہ جگہ افواہوں اور الزام تراشیوں کو استعمال کر کے اپنا جال بچھایا جا رہا تھا۔اور اب یہ گروہ ایک ڈیڑھ سال اچھی طرح پراپیگنڈا کرنے کے بعد اس فتنے کو پوری طرح بھڑ کا نا چاہتا ہے۔اس صورت حال میں حضور نے ان لوگوں کی ریشہ دوانیاں کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ فرمایا۔چنانچہ ۲۵ جولائی کو اللہ رکھا کے متعلق