سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 447 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 447

447 خود مضروب کا بھی حق نہیں ہوتا کہ وہ مدعی بن جائے۔پہلے پولیس نے خود خون آلود کپڑے مانگے کیونکہ ایسے مقدمات میں خون آلود کپڑے بھی ایک شہادت ہوتے ہیں تا کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ زخم شدید تھا اور جان لیوا بھی ہوسکتا تھا۔لیکن اس کے بعد پیشی سے قبل اُن کا آدمی کپڑے نہیں لینے آیا۔جب پیغام بھجوایا گیا کہ کپڑے منگوالئے جائیں تو اُنہوں نے کہا کہ چونکہ زخم واضح ہیں اس لئے کپڑوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔وکیل مہر فلک شیر بھروانہ بطور وکیل پیش ہوئے۔یہ صاحب پہلے پولیس میں ملازم تھے پھر برخواست ہو کر ایل ایل بی کیا۔۲۶ مارچ کی پیشی میں عدالت نے حکم دیا کہ ۳۱ مارچ تک چالان مکمل کر کے پیش کیا جائے، پھر ۲ اپریل کو ملزم کو پیش کیا جائے اور دوسرے گواہان پیش کئے جائیں۔۲ اپریل کو پیشی ملتوی ہو کرنئی تاریخ سے اپریل کی مقرر ہوئی۔وکیل مہر فلک شیر نے کہا کہ ہم بار والے ملزم کی طرف سے پیش ہورہے ہیں۔اس پر دوسرے وکیلوں نے کہا کہ تمہیں یہ کہنے کا حق نہیں یہ حق بار کے صدر کو ہے۔اس پر مہر فلک شیر نے کہا کہ اچھا میں خود ملزم کی طرف سے پیش ہو رہا ہوں۔۲ اپریل کی پیشی میں مکرم شیخ محمد احمد صاحب مظہر عدالت میں جماعت کی طرف سے پیش ہوئے۔ے اپریل کی پیشی میں جماعت کی طرف سے مکرم مرزا عبدالحق صاحب پیش ہوئے اور ان کے ساتھ مکرم چوہدری شریف احمد صاحب باجوہ بھی پیش ہوئے۔۷ اپریل کو پیشی ملتوی ہوئی اور اگلی تاریخ ۱۵ اپریل کو مقرر ہوئی۔۷ اپریل کو حج کے بیمار ہونے کی وجہ سے پیشی ملتوی کی گئی تھی۔۱۵ را پریل کی پیشی میں ملزم حاضر نہیں ہوا اور یہ سرٹیفیکیٹ پیش کیا گیا کہ ملزم بیمار ہے۔تو اگلی تاریخ ۱۹ را اپریل کی مقرر کی گئی۔کچھ تاخیر کے بعد مقدمے کی کاروائی شروع ہوئی۔جب ۲ مئی ۱۹۵۴ء کو عدالت میں ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب کا بیان لیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب دس مارچ ۱۹۵۴ء کو رات کے سوا گیارہ بجے انہوں نے زخم کا معائنہ کیا تو دائیں کان کے پیچھے سوا دو انچ چوڑا ایک زخم تھا جس پر ٹانکے لگے ہوئے تھے اور اس کے اوپر ساڑھے تین انچ کے قطر کی ورم تھی اور اور مجھے بتایا گیا کہ کہ ٹانکے لگنے کے بعد سوج میں اضافہ ہو گیا ہے۔اس سے مجھے شبہ ہوا کہ ابھی اندر خون بہہ رہا ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ زخم کو دوبارہ کھولنا پڑے گا۔مناسب تیاری کے بعد سوا تین بجے رات کے زخم کو دوبارہ کھولا