سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 78 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 78

۷۸ جس دوائی سے حضرت مسیح کے زخموں کا علاج کیا گیا تھا وہ اب تک طب کی پرانی کتابوں میں مرہم عیسی کے نام سے مشہور ہے آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ حضرت مسیح کے پیچھے پیچھے ان کے بعض حواری بھی ہندوستان پہنچے تھے۔لے یہ تحقیق ایسی اہم اور ایسی وسیع الاثر ہے کہ جب وہ دنیا کے نزدیک پایہ ثبوت کو پہنچے گی تو موجودہ مسیحیت کا تو گویا خاتمہ ہو جائے گا کیونکہ اس سے مسیحیت کے وہ تین ستون جس پر اس مذہب کی ساری عمارت کھڑی ہے یعنی الوہیت مسیح اور تثلیث اور کفارہ ٹوٹ کر گر جائیں گے اور مسلمان بھی جو حضرت عیسی کی انتظار میں آسمان کی طرف نظر لگائے بیٹھے ہیں اس طرف سے مایوس ہو کر احمدیت کی طرف پلٹا کھا ئیں گے۔یہ درست ہے کہ ابھی تک مسیحی محققین نے اس تحقیق کو درست تسلیم نہیں کیا لیکن اگر تاریخی اور عقلی دلائل کی رو سے یہ تحقیق سچی ثابت ہوتی ہے تو پھر کسی قوم کا اسے ماننا یا نہ ماننا کوئی وزن نہیں رکھتا۔اور حضرت مسیح موعود نے یونہی ایک بلا دلیل دعوی نہیں کیا بلکہ انجیل سے اور تاریخ سے اور آثار قدیمہ سے اپنے دعوئی کے دلائل پیش کئے ہیں اور واقعہ صلیب سے پہلے کے اور بعد کے حالات اور حضرت مسیح ناصری کے اقوال اور ان کے حواریوں کے واقعات اور شام اور کشمیر کی تواریخ وغیرہ سے ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح ناصری صلیب کے واقعہ سے بچ کر آہستہ آہستہ ہندوستان ہوتے ہوئے کشمیر پہنچ گئے تھے اور بالآخر یہیں فوت ہوئے۔مگر چونکہ فلسطین و شام میں پولوس کے ہاتھوں سے مسیحیت نے ایک بالکل ہی اور جامہ پہن لیا لیکن اس کے مقابل پر کشمیر میں ان کی اصلی موحدانہ تعلیم قائم رہی جو بعد میں اسلام کے اندر آ کر جذب ہو گئی اس لئے ان دونوں تعلیموں میں کبھی اتصال نہیں ہوا اور نہ کبھی درمیان کا پردہ اٹھا۔مگر یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ قمر مسیح کی تحقیق پر حضرت مسیح موعود کے اس سارے حملہ کی بنیاد تھی جو آپ کی طرف سے مسیحیت کے خلاف ظاہر ہوا بلکہ یہ صرف ایک تائیدی تحقیق تھی اور آپ کا زیادہ زور وفات مسیح کے مسئلہ پر تھا یعنی یہ کہ مسیح ناصری آسمان پر نہیں گئے بلکہ اپنی طبعی موت سے فوت ہوئے۔لے اس تحقیق کی تفصیلات کے لئے دیکھو آپ کی تصنیف ”راز حقیقت اور مسیح ہندوستان میں اور آپ کے مخلص حواری ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب کی تصنیف ” قبر مسیح ، وغیرہ۔