سلسلہ احمدیہ — Page 79
۷۹ علاوہ ازیں آپ نے اپنی تصانیف میں مسیحیت کے بنیادی عقائد الوہیت مسیح اور تثلیث اور کفارہ پر ایسی زبر دست جرح کی ہے کہ آپ کے دلائل کے سامنے مسیحیت کا طلسم دھواں ہو کر اڑ نے لگتا ہے۔الوہیت مسیح کے متعلق آپ نے ثابت کیا کہ اول تو مسیح نے کبھی خدائی کا دعوی کیا ہی نہیں اور اگر بالفرض دعوی ثابت بھی ہو تو مسیح کے حالات اس کی خدائی کے خیال کو دور سے ہی دھکے دیتے ہیں اور اس میں قطعاً کوئی بات خدائی کی ثابت نہیں ہوتی اور تثلیث کے متعلق آپ نے بتایا کہ یہ ایک سراسر مشرکانہ عقیدہ ہے جس پر کسی صحیح الفطرت انسان کا دل تسلی نہیں پاسکتا اور اس سے خدا کی خدائی پر بھی سخت حرف آتا ہے اور کفارہ کے متعلق آپ نے ثابت کیا کہ وہ ایک بالکل گندہ اور غیر فطری عقیدہ ہے جس کو گناہوں کی معافی اور اصلاح نفس کے ساتھ کوئی طبعی جوڑ نہیں بلکہ اس نے گناہ کو مٹانے کی بجائے اسے اور بھی ترقی دے دی ہے۔غرض مسیحیت کے متعلق آپ کا لٹریچر ایسا اعلیٰ پایہ کا ہے کہ اسے پڑھ کر کوئی غیر متعصب انسان مسیحیت کے موجودہ عقائد کو ایک منٹ کے لئے بھی سچا نہیں سمجھ سکتا اور خود سمجھدار عیسائیوں نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ احمدیت کے وجود میں مسیحی عقائد کے لئے موت کا پیغام ہے۔قادیان میں سکول اور اخبار کا اجراء : چونکہ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت کے خلاف مخالفت کی رو بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی تھی اور دوسری طرف خدا کے فضل سے جماعت بھی آہستہ آہستہ ترقی کر رہی تھی اس لئے ۱۸۹۸ء میں حضرت مسیح موعود کے منشاء اور مشورہ کے ماتحت جماعت احمدیہ میں دو نئے کاموں کا اضافہ ہوا۔یعنی ایک تو جماعت کے بچوں کے لئے قادیان میں ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی تاکہ جماعت کے بچے دوسرے سکولوں کے زہر آلود ماحول میں تعلیم پانے کی بجائے اپنے ماحول میں تعلیم پائیں ور بچپن سے ہی اسلام اور احمدیت کی تعلیم کو اپنے اندر جذب کر سکیں۔یہ وہی مدرسہ ہے جو اس وقت تعلیم الاسلام ہائی سکول کی صورت میں قائم ہے۔یہ مدرسه سرکاری محکمہ تعلیم سے ملحق تھا اور اب بھی ہے مگر اس میں دینیات کا کورس زیادہ کیا گیا تھا جس میں قرآن شریف اور سلسلہ کی کتب شامل تھیں اور بڑی غرض یہ تھی کہ بچوں کی تربیت احمدیت کے ماحول