سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 66 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 66

۶۶ ملیں ”اگر ان باتوں میں سے کوئی بھی نہ کریں ( یعنی عربی نویسی میں مقابلہ تفسیر نویسی میں مقابلہ۔قبولیت دعا میں مقابلہ معجزہ نمائی میں مقابلہ اور مباہلہ وغیرہ) تو مجھ سے اور میری جماعت سے سات سال تک اس طور سے صلح کر لیں کہ تکذیب اور تکفیر اور بد زبانی سے منہ بند رکھیں اور ہر ایک کو محبت اور اخلاق سے۔پس اگر ان سات سال میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہوں اور جیسا کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مر جانا ضروری ہے یہ موت جھوٹے دنیوں پر میرے ذریعہ سے ظہور میں نہ آوے یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جن سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے اسلام میں داخلہ ہونا شروع ہو جائے۔اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ نہ پکڑ جائے تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کا ذب خیال کرلوں گا۔اور خدا جانتا ہے کہ میں ہرگز کاذب نہیں۔یہ سات برس کچھ زیادہ سال نہیں ہیں اور اس قدر انقلاب اس تھوڑی مدت میں ہو جانا انسان کے اختیار میں ہرگز نہیں۔پس جبکہ میں سچے دل سے اور خدا تعالیٰ کی قسم کے ساتھ یہ اقرار کرتا ہوں اور تم سب کو اللہ کے نام پر صلح کی طرف بلاتا ہوں تو اب تم خدا سے ڈرو۔اگر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں تو میں تباہ ہو جاؤں گا ورنہ خدا کے مامور کو کوئی تباہ نہیں کرسکتا۔مگر افسوس ہے کہ غیر احمدی زعماء نے اس تجویز کو بھی قبول نہ کیا اور ہر موقعہ جو ان کے سامنے آیا اسے ضائع کرتے چلے گئے۔حضرت مسیح موعود نے اس صلح کی تجویز کو ۱۹۰۱ء میں پھر دہرایا اور ایک اشتہار کے ذریعہ اس کی طرف لوگوں کو دعوت دی اور فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ میری تردید میں کچھ نہ لکھا جاوے۔بے شک لکھو اور میری غلطیوں کو جو تمہیں نظر آتی ہیں دنیا کے سامنے لاؤ اور اپنے عقائد ے ضمیمہ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۳۱۱ تا ۳۱۹