سلسلہ احمدیہ — Page 67
۶۷ کے دلائل پیش کرو مگر بدزبانی اور ذاتی حملے اور تحقیر و توہین کا طریق چھوڑ دو بلکہ نرمی اور ہمدردی اور شائستگی کے ساتھ کلام کرو اور پھر صبر اور حلم کے ساتھ خدا کے فیصلہ کا انتظار کرو کیونکہ جس فریق کے ساتھ خدا ہو گا وہ خود غالب آتا جائے گا اور اس دفعہ آپ نے سات سال کی بجائے صرف تین سال کی میعاد پیش کی مگر افسوس ہے کہ ہمارے ضدی اور کج رو علماء نے اس تجویز کو بھی ٹھکرا دیا‘ لے جلسہ مذاہب اور حضرت مسیح موعود کی بے نظیر کامیابی :۔اسی زمانہ کے قریب اللہ تعالیٰ نے ایک اور رنگ میں بھی حضرت مسیح موعود کا غلبہ ثابت کیا جس نے سارے مذاہب کے مقابلہ پر آپ کو اور آپ کے ذریعہ اسلام کو ایک فاتح کی حیثیت دے دی تفصیل اس کی یہ ہے کہ ۱۸۹۵ء کے آخر میں حضرت مسیح موعود نے ایک اشتہار کے ذریعہ مختلف قوموں کے مذہبی لیڈروں کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ اب جبکہ خدا تعالیٰ نے دنیا میں علم کی اشاعت کے لئے اتنی سہولتیں پیدا کر دی ہیں تو مناسب ہے کہ مختلف مذاہب کی تحقیق کے لئے ایک مشترک جلسہ منعقد کیا جائے جس میں مختلف مذاہب کے چیدہ چیدہ نمائندے شریک ہو کر اپنے اپنے مذہب کے متعلق تقریریں کریں تا کہ لوگوں کے لئے تحقیق بین المذاہب کے متعلق سہولت پیدا ہو اور آپ نے اپنی طرف سے یہ دعوت دی کہ ایسا جلسہ قادیان میں منعقد کیا جائے اور یہ کہ آپ اس جلسہ کے جملہ مہمانوں کی مہمان نوازی کا خرچ خود برداشت کریں گے اور جملہ انتظامات کے ذمہ دار ہوں گے ہے مگر افسوس ہے کہ اس وقت کسی قوم نے اس دعوت کو قبول نہ کیا۔لیکن اس کے ایک سال بعد یعنی ۱۸۹۶ء کے آخر میں بعض ہندو صاحبان نے اس تحریک کو پھر تازہ کر کے اپنی طرف سے یہ تجویز پیش کی کہ ایک مشترک جلسہ لاہور میں ۲۶ ۲۷ ۲۸ / دسمبر ۱۸۹۶ء کو منعقد کیا جائے اور اس مذہبی کا نفرنس میں جملہ مذاہب کے نمائندوں کو دعوت دی جائے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کی تعلیم بیان کریں تا کہ لوگوں کو بیک وقت مختلف مذاہب کی تعلیم کو جانچنے اور وزن کرنے کا موقعہ میسر آجاوے اور اس غرض کے لئے چند اصولی سوالات مقرر کر دیکھو اشتہار الصلح خیر مورخه ۱۵ مارچ ۱۹۰۱ء مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۴۹۹،۴۹۸ جدید ایڈیشن دیکھو اشتہار جلسہ تحقیق مذاہب مورخہ ۲۹ دسمبر ۱۸۹۵ء۔مجموعہ اشتہارات صفحه ۵۳۲ تا۵۳۴ جلد اول جدید ایڈیشن