سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 65 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 65

جائے کہ جب تمام وہ لوگ جو مباہلہ کے میدان میں بالمقابل آویں ایک سال تک ان بلاؤں میں سے کسی بلا میں گرفتار ہو جائیں۔اگر ایک بھی باقی رہا تو میں اپنے تئیں کا ذب سمجھوں گا۔اگر چہ وہ ہزار ہوں یا دو ہزار۔گواہ رہ اے زمین اور اے آسمان ! کہ خدا کی لعنت اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہو اور نہ تکفیر اور تو ہین کو چھوڑے۔“ لے مگر افسوس ہے کہ باوجود ان غیرت دلانے والے الفاظ کے ان لوگوں میں سے ایک فرد واحد بھی مباہلہ کے لئے تیار نہیں ہوا جن کو آپ نے اپنے چیلنج میں مخاطب کیا تھا بلکہ بعض نے تو ڈر ڈر کر چٹھیاں لکھیں کہ ہم آپ کو برا نہیں کہتے ہمیں اس مقابلہ کے امتحان میں نہ ڈالا جاوے لیکن اکثر نے تکبر اور نخوت سے کام لیا یعنی نہ تو مباہلہ کے لئے آگے آئے اور نہ ہی تکفیر اور تکذیب کو چھوڑا اور جھوٹے بہانوں سے وقت کو ٹال دیا۔مگر باوجود اس کے ان میں سے اکثر لوگ حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہی مختلف قسم کے عذابوں کا نشانہ بن کر خاک میں مل گئے۔غیر احمدی مسلمانوں کو صلح کی دعوت :۔چونکہ حضرت مسیح موعود کی بعثت کی بڑی غرض اسلام کی خدمت تھی اس لئے آپ نے مباہلہ کے ساتھ ساتھ غیر احمدی علماء کے سامنے ایک اور تجویز بھی پیش کی۔یہ تجویز عارضی صلح کی تھی۔آپ نے لکھا کہ اگر تمہیں فیصلہ کے دوسرے طریق منظور نہیں اور مباہلہ کے لئے بھی آگے نہیں آنا چاہتے تو آؤ میرے ساتھ سات سال کے لئے صلح کر لو اور اس عرصہ میں مجھے غیر مذاہب کے مقابلہ کے لئے آزادی اور یکسوئی کے ساتھ کام کرنے دو۔پھر اگر خدا نے مجھے اس عرصہ میں غیر مذاہب کے مقابلہ میں نمایاں غلبہ دے دیا اور اسلام کو ایک غیر معمولی فتح نصیب ہوگئی اور اسلام کا بول بالا ہو گیا تو چونکہ یہی مسیح اور مہدی کی بڑی علامت ہے تم مجھے مان لینا۔لیکن اگر میرے ذریعہ یہ غلبہ حاصل نہ ہوا تو پھر تمہیں اختیار ہوگا کہ میرا انکار کرو اور جس طرح چاہو جھوٹوں کی طرح سلوک کرو چنا نچہ آپ نے لکھا:۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحه ۶۴ تا ۶۷