سلسلہ احمدیہ — Page 172
۱۷۲ جب مخالفین کو آپ کے لاہور آنے کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے پھر وہی مخالفت کے پرانے مظاہرے شروع کر دیئے اور آپ کی فرودگاہ کے سامنے اڈہ جما کر نہایت گندے اور اشتعال انگیز لیکچر دینے لگے۔یہ حالت دیکھ کر حضرت مسیح موعود نے اپنی جماعت کو نصیحت فرمائی کہ ان گالیوں کو صبر کے ساتھ برداشت کریں اور اپنے آپ کو ہر طرح روک کر رکھیں۔اس تعلیم کا یہ اثر ہوا کہ شریف طبقہ کو حضرت مسیح موعود کی طرف اور بھی زیادہ توجہ پیدا ہوگئی اور متلاشی لوگ کثرت کے ساتھ حضور کی ملاقات کے لئے آنے لگے۔اسی دوران میں ۹ رمئی ۱۹۰۸ء کو آپ کو الہام ہوا کہ :۔الرَّحِيل ثُمَّ الرَّحِيل - إِنَّ اللَّهَ يَحْمِلُ كَلَّ حِمْلٍ - یعنی کوچ اور پھر کوچ اللہ تعالیٰ سارا بوجھ خود اٹھالے گا۔یہ آپ کی وفات کی طرف صریح اشارہ تھا۔مگر آپ نہایت استقلال کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہے اور کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار نہیں کیا البتہ آپ نے انبیاء کی سنت کے مطابق اس قسم کی خواب یا الہام کو حتی الوسع ظاہر میں بھی پورا کر دینا چاہئے اپنے مکان کو بدل لیا اور فرمایا کہ یہ بھی ایک قسم کا کوچ ہے اور ایک رنگ میں الہام کا منشاء پورا ہو جاتا ہے پس آپ خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان میں سے منتقل ہو کر اپنے ایک دوسرے مرید ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان میں جو اس کے ساتھ ہی ملحق تھا تشریف لے گئے۔مگر باوجود اس کے جماعت کے ایک طبقہ میں اس الہام کی وجہ سے تشویش تھی۔لیکن جب اس کے چند دن بعد قادیان سے ایک مخلص احمدی نوجوان با بوشاه دین صاحب شیشن ماسٹر کی وفات کی خبر آئی تو لوگوں کی توجہ اس طرف منتقل ہوگئی کہ شاید کوچ والے الہام میں انہی کی موت کی طرف اشارہ ہوگا مگر قرائن سے پتہ لگتا ہے کہ خود حضرت مسیح موعود ا چھی طرح سمجھتے تھے کہ یہ الہام آپ ہی کے متعلق ہے۔لیکن جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے اس کی وجہ سے آپ میں قطعا کسی قسم کی گھبراہٹ کے آثار پیدا نہیں ہوئے۔بلکہ آپ اسی انہماک اور اسی استقلال اور اسی شوق و ولولہ کے ساتھ اپنے خدا داد مشن میں لگے رہے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۵ مورخه ۳۰ رمئی ۱۹۰۸ء صفحه او بدر جلد نمبر ۲۱ مورخه ۲۶ رمئی ۱۹۰۸ ء صفحہ ۷ بحوالہ تذکرہ