سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 171 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 171

121 ہیں۔مثلاً حضرت مسیح موعود کے آخری سفر لاہور میں ایک انگریز سیاح پروفیسر ریگ نامی جوانگلستان سے ہندوستان کا دورہ کرنے آیا تھا آپ کو لاہور میں ملا تھا اور حقیقت گناہ اور نجات اور بعث بعد الموت اور خلق آدم اور عمر دنیا اور مسئلہ ارتقاء وغیرہ کے متعلق آپ کے جوابات سن کر بہت ہی متاثر ہوا تھا اور ایک دفعہ ملنے کے بعد خواہش کر کے دوسری ملاقات مقرر کروائی تھی۔لے سفر لا ہور اور وفات کے الہامات کا اعادہ : ان ایام میں ہماری والدہ صاحبہ کی طبیعت علیل رہتی تھی اور ان کی خواہش تھی کہ لاہور جا کر کسی ماہر لیڈی ڈاکٹر کو دکھا کر علاج کرائیں۔مگر حضرت مسیح موعود غالبا اپنی طبیعت کے کسی مخفی اثر کے ماتحت اس وقت سفر اختیار کرنے میں متامل تھے۔لیکن آخر آپ والدہ صاحب کے اصرار پر تیار ہو گئے۔یہ ا پریل ۱۹۰۸ء کے اخری ایام تھے۔لیکن ابھی آپ قادیان میں ہی تھے اور دوسرے دن روانگی کی تیاری تھی کہ ۲۵ / اور ۲۶ اپریل کی درمیانی شب کو آپ کو یہ الہام ہوا کہ:۔مباش ایمن از بازی روزگار سے یعنی اس زندگی کے کھیل سے امن میں نہ رہو۔یہ ایک چونکا دینے والا الہام تھا اور چونکہ اتفاق سے اس دن ہمارے چھوٹے بھائی کی طبیعت بھی علیل ہوگئی اس لئے آپ پھر متامل ہو گئے اور اس دن کی روانگی ملتوی کر دی۔لیکن چونکہ ادھر والدہ صاحبہ کی خواہش تھی اور ادھر الہام میں کوئی تعیین نہیں تھی اور بھائی کی حالت میں بھی افاقہ تھا اس لئے آپ دوسرے دن یعنی ۲۷ / اپریل ۱۹۰۸ء کو قادیان سے روانہ ہو گئے۔بالہ میں پہنچ کر جو ان ایام میں قادیان کا ریلوے سٹیشن تھا پھر ایک روک پیش آ گئی اور وہ یہ کہ خلاف توقع ریز روگاڑی نہیں مل سکی۔اس پر آپ نے پھر قادیان واپس چلے آنے کا ارادہ فرمایا لیکن بالآخر بٹالہ میں ہی ریز رو گاڑی کے انتظام میں ٹھہر گئے اور گاڑی ملنے پر ۲۹۔اپریل کو لاہور تشریف لے گئے جہاں آپ نے اپنے ایک ذی عزت مرید خواجہ کمال الدین صاحب بی۔اے۔ایل ایل بی کے مکان پر قیام کیا۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۵ مورخه ۳۰ مئی ۱۹۰۸ء صفیه ۲ کالم نمبر ۲ - الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۰ مورخه ۲۶ اپریل ۱۹۰۸ صفحها