سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 173 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 173

۱۷۳ لاہور کے رؤسا کو دعوت :۔انہی ایام میں آپ نے یہ تجویز فرمائی کہ چونکہ رؤساء کا طبقہ عموماً دوسرے لوگوں کے ساتھ کم اختلاط کرتا ہے اور پبلک جلسوں میں شریک نہیں ہوتا اور ویسے بھی یہ طبقہ دولت اور آرام کی زندگی کی وجہ سے عموماً دین میں ست ہوتا ہے اس لئے انہیں ایک دعوت کے ذریعہ اپنے مکان پر بلایا جاوے اور پھر ظاہری طعام کے ساتھ انہیں روحانی غذا بھی پہنچادی جائے تاکہ اس طرح ان کے کانوں میں پیغام حق پہنچ جائے۔چنانچہ آپ کی تحریک پر ۷ ارمئی ۱۹۰۸ ء کولاہور کے مسلمان رؤساء کو دعوت دی گئی اور کھانے سے کسی قدر قبل کا وقت دے کر بلا لیا گیا اور پھر حضرت مسیح موعود نے ان میں کھڑے ہو کر اپنے خدا داد مشن کے متعلق تقریر فرمائی۔گو آپ اس دن کسی قدر بیمار تھے اور طبیعت اچھی نہیں تھی مگر پھر بھی آپ نے دوڈھائی گھنٹہ بڑے جوش کے ساتھ تقریر کی اور سب حاضرین نے شوق اور محبت کے ساتھ اس تقریر کوسنا اور جب بعض نازک مزاج اور جلد باز لوگ بھوک کی وجہ سے گھبرا کر کچھ تلملانے لگے تو دوسروں نے انہیں یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ دنیا کا کھانا تو ہم ہر روز کھاتے ہیں آج یہ روحانی غذامل رہی ہے اس لئے توجہ کے ساتھ سنو۔الغرض اس طرح امراء کے طبقہ میں بہت اچھی طرح تبلیغ پہنچ گئی اور حضرت مسیح موعود اپنے ایک اہم فرض سے سبکدوش ہو گئے۔جس دن آپ نے یہ تقریر فرمائی اسی دن یعنی اس سے پہلی رات آپ کو یہ الہام ہوا کہ : مکن تکیه برعمر نا پائیدار لے یعنی اس گزرنے والی عمر پر بھروسہ نہ کر۔" " سید الہام بھی واضح طور پر آپ کی وفات کے قرب کی خبر دیتا تھا مگر آپ بدستور اپنے کام میں منہمک رہے۔ایک پبلک لیکچر کی تجویز اور پیغام صلح کی تصنیف:۔اس مخصوص لیکچر کے بعد جو رؤساء لاہور کے سامنے ہوا تھا بعض لوگوں کی تحریک پر ایک پبلک لیکچر کی بھی تجویز کی گئی اور حضرت مسیح موعود نے اس کے لئے ”پیغام صلح کا عنوان پسند فرمایا۔اس مضمون کو حضرت مسیح موعود نے حسب عادت لکھ کر سنانا پسند کیا اور اس کی تصنیف شروع فرما دی اور اس میں ہندوستان کے ہندوؤں کو بدر جلد نمبر ۲۲ مورخه ۲ / جون ۱۹۰۸ء صفحه ۳