سلسلہ احمدیہ — Page 101
1+1 تھے وہ اپنے اندر کوئی خاص کشش نہیں رکھتا تھا۔آپ نے نہ صرف اسلام کے چہرہ سے اس کی صدیوں کی میل کو دھو یا بلکہ قرآن شریف سے وہ وہ معارف نکال کر دنیا کے سامنے پیش کئے کہ دشمن بھی پکار اٹھا کہ اسلام کی یہ تصویر نہایت خوبصورت اور دلکش ہے اور اس صورت حال نے لا ز ما لوگوں کو آپ کی طرف کھینچا۔پانچواں بڑا سبب آپ کا وہ جہاد تھا جو آپ اسلام کی خدمت میں دن رات کر رہے تھے۔آپ کی یہ والہانہ خدمت بڑے سے بڑے دشمن کی زبان سے بھی یہ الفاظ نکلواتی تھی کہ یہ شخص اسلام کا بے نظیر فدائی اور اس کا عاشق زار ہے جسے دن رات اسلام کی خدمت کے سوا کوئی خیال نہیں۔اس حالت کو دیکھ کر مجھدار لوگ ایک گہرے فکر میں پڑ جاتے تھے کہ ایک طرف تو مرزا صاحب علماء کی نظر میں کافر اور بے دین ہیں اور دوسری طرف انہیں اسلام کا اس قدر درد ہے کہ بے دین کہنے والے تو پڑے سوتے ہیں مگر مرزا صاحب ہر قسم کے آرام کو اپنے اوپر حرام کر کے اسلام کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔اس پر جولوگ سعید الفطرت تھے وہ مجبور ہو کر آپ کی طرف کھچے آتے تھے۔چھٹا بڑا سبب وہ نیک اثر تھا جو آپ نے اپنی جماعت میں پیدا کیا جس کی وجہ سے آپ کا ہر متبع خدمت دین کا متوالا ہورہا تھا۔لوگ دیکھتے تھے کہ پہلے ایک انسان بے دین اور اسلامی تعلیم سے ٹھٹھا اور ہنسی کرنے والا ہوتا ہے لیکن جو نہی کہ وہ آپ کی جماعت میں داخل ہوتا ہے وہ ایک دیندار۔خدا سے ڈرنے والا۔اسلام سے محبت کرنے والا۔اسلام کی تعلیم پر دلی شوق سے عمل کرنے والا اور اسلام کی خدمت میں اپنی روح کی غذا پانے والا بن جاتا ہے۔اس نظارے کو دیکھ کر ان کے دل کہتے تھے کہ یہ پاک پھل ایک گندے درخت سے پیدا نہیں ہوسکتا۔سہ وہ اسباب تھے جو آپ کی تائید میں کام کر رہے تھے مگر مخالف بھی خالی ہاتھ نہیں تھا کیونکہ شیطان نے اس کے ہاتھ میں بھی کچھ گولہ بارود دے رکھا تھا۔چنانچہ مخالفت کے موٹے موٹے اسباب یہ تھے۔