سلسلہ احمدیہ — Page 100
آراستہ ہونے کے اور باوجود اپنی کثرت کے اس کے سامنے ذلیل اور مغلوب ہوتے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔کبھی نصرت نہیں ملتی در مولی سے گندوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا وہ اپنے نیک بندوں کو (د) نشانات کی چوتھی قسم وہ خواہیں وغیرہ تھیں جو دوسرے لوگوں کو آپ کی صداقت کے متعلق آئیں اور اس ذریعہ سے بھی ہزاروں لوگوں نے آپ کو مانا۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں بڑی کثرت کے ساتھ لوگوں کو اس قسم کی خوا ہیں آتی تھیں یا بعض اوقات الہام بھی ہوتا تھا جن میں یہ بتایا جاتا تھا کہ آپ بچے اور خدا کی طرف سے ہیں حتی کہ بعض خوابیں مخالفوں کو بھی آئیں جن میں سے بعض نے تو اپنی مخالفت کو ترک کر کے غلامی اختیار کر لی مگر بعض خوابوں کی تاویل کر کے مخالفت پر جمے رہے۔تیسرا بڑا سبب آپ کی کامیابی کا وہ دلائل اور براہین تھے جو آپ نے اپنی صداقت میں پیش کئے جو منقولی اور معقولی دونوں رنگ کے تھے۔یہ دلائل ایسے زبر دست تھے کہ کوئی غیر متعصب عظمند انسان ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔آپ نے قرآن سے ،حدیث سے ، دوسرے مذاہب کے اقوال سے ، تاریخ سے اور عقل خدا داد سے اپنی تائید میں دلائل کی ایسی عمارت کھڑی کر دی کہ لوگ اسے دیکھ دیکھ کر مرعوب ہوتے تھے اور جواب کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔بے شک آپ کے مقابل پر آپ کے مخالفین بھی خاموش نہیں تھے اور وہ بھی اپنی طرف سے بعض کمزور حدیثیں یا بعض ذو معنین اور متشابہ قرآنی آیات پیش کرتے تھے اور سلف صالح کے اقوال کا ایک حصہ بھی ان کے ہاتھ میں تھا مگر اس ریت کے تو وہ کو حضرت مسیح موعود کے قلعہ سے کوئی نسبت نہیں تھی اور عقلمند لوگ اس فرق کو دیکھتے اور اس سے فائدہ اٹھاتے تھے۔چوتھا بڑا سبب وہ دلکش اور خوبصورت تصویر تھی جو حضرت مسیح موعود نے اسلام کی پیش فرمائی جو ہر سمجھدار شخص کے دل کو مسخر کرتی تھی اور اس کے مقابل پر اسلام کا جونقشہ غیر احمدی علماء پیش کرتے