سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 102 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 102

۱۰۲ (۱) حضرت مسیح موعود کے بہت سے عقائد اور خیالات موجود الوقت مسلمانوں کے معروف عقائد کے خلاف تھے۔مثلاً مسیح کی وفات کا عقیدہ۔اصل مسیح ناصری کی بجائے کسی مثیل مسیح کا نزول۔مسیح اور مہدی کا ایک ہی ہونا۔خونی اور جنگی مہدی سے انکار۔جہاد بالسیف کی ممانعت۔ملا ئکتہ اللہ کے نزول کی تشریح۔دجال کی تشریح وغیرہ وغیرہ۔ان اختلافات کی وجہ سے عوام آپ کو اسلام سے منحرف اور دین میں ایک نئی راہ نکالنے والا خیال کرتے تھے اور آپ کی باتوں پر کان دھرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔(۲) مسلمان علماء کا یہ فتویٰ کہ آپ کا فر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور آپ سے کسی قسم کا تعلق رکھنا جائز نہیں عوام کے رستے میں ایک بھاری روک تھی۔(۳) آپ کی بعض پیشگوئیوں میں وہ بادل کا ساسا یہ جوخدا کی طرف سے ایک ابتلا اور آزمائش کے طور پر رکھا جاتا ہے اور پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے معیار میں اختلاف جو آپ کے اور آپ کے مخالف علماء میں پایا جاتا تھا وہ بھی عوام الناس کے لئے ایک روک تھا۔یعنی آپ یہ فرماتے تھے کہ چونکہ خدا کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے اس لئے تو بہ اور استغفار سے عذاب ٹل جاتا ہے اور اسی لئے وعید کی پیشگوئیاں بعض اوقات جبکہ دوسرا فریق خائف ہوکر دب جاوے ٹل جایا کرتی ہیں اور آپ دوسرے نبیوں کے حالات میں ان کی مثالیں بھی دیتے تھے مگر آپ کے مخالف یہ کہتے تھے کہ نہیں بلکہ وعدہ ہو یا وعید جو بھی کسی پیشگوئی کے الفاظ ہوں وہ بہر حال اپنی ظاہری صورت میں پورے ہونے چاہئیں۔(۴) آپ کو ماننے سے ایک تلخی اور قربانی کی زندگی اختیار کرنی پڑتی تھی جس کے لئے اس زمانہ کے مسلمان اور دوسرے لوگ تیار نہیں تھے۔(۵) وہ قدرتی تعصب جو ہر نئے سلسلہ کے متعلق ہوا کرتا ہے وہ آپ کے سلسلہ کے متعلق بھی کام کر رہا تھا۔ان اسباب کی وجہ سے آپ کی جماعت کی رفتار ترقی ابتداء میں دھیمی تھی اور ایک رسہ کشی کی سی کیفیت پیدا ہو رہی تھی۔مگر پھر بھی باوجود خطرناک مخالفت کے آپ کی جماعت آہستہ آہستہ