سلسلہ احمدیہ — Page 429
۴۲۹ احمدیت کا مستقبل جیسا کہ ہم نے گذشتہ باب میں اشارہ کیا تھا ہر الہی سلسلہ دنیا میں ایک پیج کے طور پر قائم کیا جاتا ہے اس لئے اس کی ابتدا بہت چھوٹی ہوتی ہے مگر آہستہ آہستہ وہ ترقی کر کے ایک بہت بھاری درخت بن جاتا ہے۔پس یہی ازلی قانون احمدیت کے لئے بھی مقدر ہے بلکہ احمدیت کے متعلق تو خاص طور پر یہ ذکر آتا ہے کہ اس کی ابتداء بہت ہی کمزوری کی حالت میں ہوگی اور ابتدائی مرحلوں میں اس کا بڑھاؤ بھی بہت آہستہ آہستہ ہو گا مگر باوجود اس کے اس کا قدم ایسے رنگ میں اٹھے گا کہ باریک نظر سے دیکھنے والے اس کی اٹھان میں اس کے انتہا کی جھلک پالیں گے چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب آخری زمانہ میں حضرت مسیح ناصری کا مثیل آئے گا تو اس کے سلسلہ کی ابتداء اس کمزور کونپل کی طرح ہوگی جو زمین میں سے ایسی حالت میں نکلتی ہے کہ اس کا دیکھنا تک مشکل ہوتا ہے مگر اس کے بعد یہ سلسلہ آہستہ آہستہ بڑھتا جائے گا اور یہ نازک کونپل پہلے ایک کمزور سا پودا بنائے گی اور پھر درجہ بدرجہ درخت کی صورت اختیار کر کے بڑھتی جائے گی اور بالآخر ایک نہایت عظیم الشان درخت بن جائے گی نیز فرماتا ہے کہ اس کو نیل کی اُٹھان ایسی ہوگی کہ جہاں ایک طرف اس پیج کے بونے والے اسے دیکھ دیکھ کر خوش ہوں گے وہاں اسے مٹانے والے اس کی بڑھوتی کو دیکھ کر غصہ سے بھرتے جائیں گے لے پس کی ترقی ایک پودہ کی طرح بہت آہستہ آہستہ مقدر ہے مگر یہ ترقی ایسے رنگ میں ہونے والی ہے کہ دوست و دشمن اس کی اٹھان میں اس کے مستقبل کی کسی قدر جھلک دیکھ سکیں گے۔چنانچہ ہمارے ناظرین دیکھ سکتے ہیں کہ اس وقت تک جو پر پچاس سال گزر رہے ہیں خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے ساتھ بعینہ یہی سلوک فرمایا ہے اور بالکل قرآنی نقشے کے مطابق جماعت کا قدم اٹھ رہا ہے۔مگر اس جگہ ہم اپنے ناظرین کو کسی حد تک وہ نقشہ بھی دکھا دینا چاہتے ہیں جو جماعت کی آئندہ ترقی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے الہامات وکشوف میں بیان فرمایا ہے۔یہ نقشہ الفتح :٣٠