سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 390 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 390

۳۹۰ بزرگوں کے پاکیزہ حالات بیان کرنے کا موقعہ مل سکے مگر افسوس ہے کہ ابھی تک دوسری قوموں نے اس طرف توجہ نہیں کی۔بالآخر ۱۹۳۹ء میں آکر حضرت خلیفہ ایسیح نے یہ بوجھ بھی اپنے سر پر لے لیا اور جماعت احمدیہ کو ہدایت دی کہ جہاں وہ سال میں ایک دن آنحضرت ﷺ کی سیرت کے لئے منایا کرتے ہیں وہاں ایک دن دوسرے پیشوایان مذاہب کے لئے بھی منایا کریں۔چنانچہ اسی ماہ دسمبر کے ابتداء میں تمام ہندوستان کی احمدی جماعتوں نے یہ دن بڑے اخلاص اور دھوم دھام سے منایا اور اپنے انتظام کے ماتحت جلسے کر کے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام اور حضرت کرشن علیہ السلام اور حضرت بابا نانک علیہ الرحمۃ اور دوسرے بانیان مذاہب کی تعریف میں پر اخلاص تقریریں کیں اور نعتیہ نظمیں پڑھیں۔یقینا یہ ایک نہایت مبارک اقدام ہے جسے اگر خلوص قلب اور مستقل مزاجی کے ساتھ نبھایا گیا تو وہ ملک کی زہریلی فضا کو صاف کرنے میں بہت بھاری مدد دے گا اور یہ حضرت خلیفہ ایح ثانی کا ہندوستان کی مختلف قوموں پر ایک ایسا عظیم الشان احسان ہے کہ وہ اس کا جس قدر بھی شکر یہ ادا کریں کم ہے۔قادیان کی ترقی اور قادیان میں ریل کی آمد : ایک تاریخی تبصرہ میں ہر قسم کے مناظر پر نظر ڈالنی پڑتی ہے اور ہم اپنے ناظرین سے معافی چاہتے ہیں کہ ہم انہیں تھوڑی دیر کے لئے ہندوستان کے وسیع منظر سے ہٹا کر قادیان کے محدود منظر کی طرف لا رہے ہیں۔ہم یہ بتا چکے ہیں کہ جس وقت حضرت مسیح موعود نے خدا سے حکم پا کر دعوئی فرمایا تو قادیان ایک بہت چھوٹا سا گاؤں تھا جس کی آبادی دو ہزار نفوس سے زیادہ نہیں تھی اور اس کے اکثر گھر اجڑے ہوئے اور ویران نظر آتے تھے۔اور ضروری استعمال کی معمولی معمولی چیزوں کی خرید کے لئے بھی باہر جانا پڑتا تھا۔اسی طرح اس وقت قادیان کا قصبہ تار اور ریل وغیرہ سے بھی محروم تھا اور دنیا سے بالکل منقطع حالت میں پڑا تھا۔مگر حضرت مسیح موعود کے دعوی کے بعد اس نے خدا کے فضل سے بڑی سرعت کے ساتھ ترقی شروع کر دی اور نہ صرف اس کی آبادی اور اس کی تجارت میں غیر معمولی ترقی ہوئی بلکہ ہر جہت سے اس نے حیرت