سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 391 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 391

۳۹۱ انگیز رنگ میں ترقی کی حتی کہ ناظرین یہ سن کر حیران ہوں گے کہ جماعت احمدیہ کے تبلیغی اور تعلیمی اور تربیتی نظام کی وجہ سے قادیان کے پریس نے یہ حیثیت حاصل کر لی کہ وہ پنجاب بھر میں تیسرے نمبر پر آ گیا۔مگر جس بات کا ہمیں اس جگہ مخصوص طور پر ذکر کرنا ہے وہ ریل کی آمد سے تعلق رکھتی ہے۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں قادیان کا ریلوے سٹیشن بٹالہ تھا جو قادیان سے بارہ میل مغرب کی طرف واقع ہے اور اس کے اور قادیان کے درمیان ایک کچا اور نہایت درجہ شکستہ رستہ حائل ہے۔میں نے ” حائل“ کا لفظ اس لئے لکھا ہے کہ یہ رستہ آمد ورفت میں مد ہونے کی بجائے حقیقیہ اکثر نفیس مزاج لوگوں کے لئے روک کا موجب بن جاتا تھا مگر باوجود اس کے ہمیں ہرگز امید نہ تھی کہ قادیان میں اس قدر جلد ریل آجائے گی لیکن خدا نے ایسا تصرف فرمایا کہ ہماری کوشش کے بغیر اچانک یہ بات معلوم ہوئی کہ ریلوے بورڈ نے بٹالہ اور بیاس کے درمیان ایک برانچ لائن کا فیصلہ کیا ہے۔چنانچہ ۱۹۲۸ء میں یہ لائن بٹالہ کی طرف سے شروع ہو کر قادیان تک پہنچ گئی مگر جو نہی کہ قادیان تک کے حصہ کی تعمیر مکمل ہوئی محکمہ ریلوے نے بعض مشکلات کی وجہ سے اپنا ارادہ بدل لیا اور اگلے حصہ کی تعمیر رک گئی۔اس طرح قادیان کا دور افتادہ قصبہ ہماری توقع کے سراسر خلاف اچانک پنجاب کے ریلوے سسٹم کے ساتھ پیوند ہو گیا۔اس سے پہلے ۱۹۲۶ء میں قادیان میں تار کا سلسلہ بھی جاری ہو چکا تھا اور اس کے بعد ۱۹۳۵ء میں بجلی آگئی اور پھر ۱۹۳۷ء میں اچانک ٹیلیفون بھی پہنچ گیا۔سوخلافت ثانیہ کے ان چند سالوں کے اندراندر خدا نے کے مرکز کو دنیا کی تمام جدید آسائشوں سے آراستہ فرما دیا۔دنیا خواہ کچھ کہے لیکن ہم اسے یقیناً خدا کی ایک بخشش خیال کرتے ہیں جو ہمارے تبلیغی اور تربیتی اور تنظیمی کام کو آسان کرنے کے لئے خدا نے ہم پر کی ہے اور ہماری دعا ہے کہ خدا ہمیں ان ترقیات سے خدمت دین کی راہ میں پورا پورا فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔آمین۔اس جگہ یہ ذکر بھی بے موقعہ نہ ہوگا کہ حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کے عہد میں قادیان کی آبادی اپنی پرانی حدود سے نکل کر دور دراز فاصلہ تک پھیل گئی ہے اور بہت سے نئے محلے آباد ہو گئے ہیں۔