سلسلہ احمدیہ — Page 344
۳۴۴ لئے اس بات کو کافی سمجھا کہ وہ احمدیت کے اصلاح شدہ خیالات کو لے کر اسلام کے سوادِ اعظم میں پھر جا داخل ہوں مگر یہاں تو بات ہی اور تھی۔یہاں تو احمدیت کا یہ دعویٰ ہے کہ میں دنیا کے سارے نظاموں کو مٹا کر جن میں موجودہ اسلام کا بگڑا ہوا نظام بھی شامل ہے ایک نیا نظام قائم کرنے آئی ہوں۔یہ نیا نظام اسلام ہی کا نظام ہو گا مگر بہر حال نیا ہو گا اور احمدیت کے واسطے سے قائم ہوگا۔خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود سے فرماتا ہے:۔ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ ہم لوگ دوسرے مسلمانوں سے ہر بات میں جدا رہنا چاہتے ہیں اور کسی بات میں بھی ان کے ساتھ اتحاد پسند نہیں کرتے۔یہ وہم یقیناً خلاف واقعہ اور خلاف تعلیم احمدیت ہوگا۔ہم سب مسلمانوں کو اپنا قریب تر بھائی خیال کرتے ہیں کیونکہ ہم اس کلمہ کو پڑھنے والے اور اسی شریعت پر عمل کرنے والے اور اسی نبیوں کے سردار محمد مصطفی ﷺ کی غلامی کا دم بھرنے والے ہیں اور ہم تمام مشترک امور میں مسلمانوں کے ساتھ تعاون کرنے اور ان کے دوش بدوش کھڑے ہو کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں اور ان کی خدمات کو اپنا فرض خیال کرتے ہیں۔مگر ہم مسلمانوں کے بگڑے ہوئے عقائد کو اچھا نہیں کہہ سکتے اور نہ ان کی خاطر اپنے اچھے عقائد کو چھپانے کے لئے تیار ہیں۔بلکہ ہم ڈنکے کی چوٹ کہتے ہیں اور خدا کے فضل سے ہمیشہ کہتے رہیں گے کہ اب حقیقی اسلام صرف احمدیت ہی میں مل سکتا ہے اور احمدیت کے ساتھ ہی مسلمانوں کی نجات وابستہ ہے۔اگر وہ احمدیت کے مخالف رہیں گے اور خدا کے برگزیدہ مسیح کے ساتھ اپنا پیوند نہیں جوڑیں گے تو ہم اس بات کے اظہار سے رک نہیں سکتے کہ اس صورت میں وہ خدا کا مقابلہ کرنے والے ہوں گے اور ان کا قدم ہر لحظہ نیچے ہی نیچے گرتا جائے گا۔ہم ان کا دل دکھانا نہیں چاہتے مگر ان کو ہوشیار کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے جتھے اور اپنی حکومتوں پر نازاں نہ رہیں کیونکہ خدا کے مسیح نے صاف فرما دیا ہے کہ:۔ے تذکره صفحه یه ۱۵ مطبوعه ۲۰۰۴ء