سلسلہ احمدیہ — Page 343
۳۴۳ آسانی کے ساتھ سمجھ آ جاتی کہ اصلاح کا طریق یہ نہیں ہے کہ ایک قوم دوسری قوم کو بچانے کی خاطر اپنی خصوصیات کو ترک کر کے اس میں جذب ہو جاوے اور نہ ہی کسی قوم کی خصوصیات دوسری قوم میں جذب ہونے سے باقی رہ سکتی ہیں۔جب کسی کھیت کی فصل پرانی ہو کر خراب ہو جاوے اور اجڑنے لگے تو اس کی اصلاح کا یہ طریق نہیں کہ اس کھیت کے اندر تازہ بیج بکھیر دیا جائے۔بلکہ اس کی اصلاح کا طریق یہ ہے کہ اس میں ہل چلا کر اسے صاف کیا جائے اور پھر نیا بیج ڈالا جائے۔پس بے شک اسلام اور قرآن کا کھیت وہی قدیم کھیت ہے جو پہلے تھا اور قیامت تک وہی قائم رہے گا مگر اس کی موجودہ فصل خراب ہو کر اجڑ رہی ہے اور ضرورت ہے کہ اس کھیت میں دوبارہ ہل چلا کر نیا بیچ ڈالا جاوے۔غالباً منکرین خلافت کے لیڈروں کو یہ بات بھی بھولی نہیں ہوگی کہ جب ۱۹۰۶ء کے آغاز میں ایک مشہور غیر احمدی جرنلسٹ نے ان تبلیغی اور علمی مضامین سے متاثر ہوکر جور یو یو آف ریلیجنز میں شائع ہورہے تھے یہ تجویز پیش کی کہ ریویو کو عام اسلامی مضامین کے لئے وقف کر دیا جاوے اور سلسلہ احمدیہ کے مخصوص عقائد کا اس میں ذکر نہ ہوا کرے اور اس صورت میں اس کی خریداری کی توسیع کے متعلق بڑی بڑی امیدیں دلائی تھیں تو حضرت مسیح موعود نے اس تجویز کوسختی کے ساتھ ٹھکرا دیا اور فرمایا کہ کیا ہم احمدیت کے ذکر کو الگ کر کے لوگوں کے سامنے مردہ اسلام کو پیش کریں گے؟ اور جب ایک دوسرے موقعہ پر اس بات کا ذکر تھا کہ بعض غیر احمدی مسلمانوں کی خواہش ہے کہ احمدی ان کے ساتھ مل جائیں اور سب کام مل کر کریں تو آپ نے فرمایا کہ خدا نے میرے ذریعہ پاک اور صاف دودھ اتارا ہے تو کیا اب میں اپنے پاک وصاف دودھ کو پھر بگڑے ہوئے اور ناصاف دودھ کے ساتھ ملا دوں؟ یہ ایک کیسی سادہ مثال ہے مگر کیسی لطیف اور کیسی حکمت سے پر !! مگر افسوس ہے کہ ہمارے ان بھٹکے ہوئے ودستوں نے ان باتوں کو سنتے ہوئے بھی آنکھیں نہ کھولیں۔الغرض منکرین خلافت کو ساری ٹھو کر اس بات سے لگی ہے کہ انہوں نے احمدیت کی حقیقت اور اس کی غرض و غایت کو نہیں سمجھا۔انہوں نے اسے صرف ایک عام اصلاحی تحریک خیال کیا اور اس