سلسلہ احمدیہ — Page 232
۲۳۲ طوفان بے تمیزی اٹھ کھڑا ہوا اور چاروں طرف سے مخالفت کی آگ کے شعلے بلند ہونے لگے وہ مسیح موعود ہونے کا دعوی تھا۔یعنی آپ نے خدا سے الہام پا کر یہ دعویٰ فرمایا کہ حضرت مسیح ناصری جنہیں مسلمان غلطی سے آسمان پر زندہ سمجھ رہے تھے وہ دراصل فوت ہو چکے ہیں اور جو وعدہ ان کی آمد ثانی کے متعلق اسلام میں کیا گیا تھا وہ تمثیلی رنگ میں خود آپ کے وجود میں پورا ہوا ہے۔جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے قرآن شریف نے فی الجملہ ایک مثیل مسیح کی پیشگوئی فرمائی تھی لے اور حدیث میں صراحت کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ:۔وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوْشَكَنَّ أَنْ يُنْزِلَ فِيْكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدَلًا فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ " و یعنی مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ضرور نازل ہوں گے تم میں مسیح ابن مریم اور وہ خدا کی طرف سے تمہارے تمام اختلافی امور میں حکم اور عدل ہو کر فیصلہ کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے ( یعنی صلیبی مذہب کے زور کے وقت میں ظاہر ہو کر اس کے زور کو توڑ دیں گے ) اور خنزیر کوقتل کریں گے ( یعنی خنزیری صفات لوگوں کا استیصال کریں گے ) اور جزیہ کو موقوف کر دیں گے یعنی جنگ کو موقوف کر کے جزیہ کا سوال ہی اٹھا دیں گے۔“ اس پیشگوئی کے نتیجہ میں مسلمانوں میں کئی صدیوں سے یہ عقیدہ چلا آ رہا تھا کہ حضرت مسیح ناصری جو انیس سو سال ہوئے فلسطین کے ملک میں گزرے تھے اور جن کے ہاتھ سے مسیحی مذہب کی بنیاد رکھی گئی تھی وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں اور آخری زمانہ میں دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔حضرت مسیح موعود نے خدا سے علم پا کر اعلان فرمایا کہ یہ عقیدہ قرآن وحدیث کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے۔بے شک مسیح کی آمد ثانی کا وعدہ برحق ہے مگر یہ بات قطعاً درست نہیں کہ وہی پہلا مسیح آسمان پر زندہ موجود ہے اور آخری زمانہ میں آسمان سے نازل ہوگا بلکہ یہ پیشگوئی استعارہ کے رنگ میں ایک مثیل ے دیکھو قرآن شریف سورۃ نور رکوع نمبرے وسورة صف رکوع نمبر ا۔صحیح بخاری کتاب بدء الخلق باب نزول عیسی بن مریم۔