سلسلہ احمدیہ — Page 233
۲۳۳ مسیح کی آمد کی خبر دیتی تھی یعنی اس پیشگوئی میں یہ بتانا مقصود تھا کہ آخری زمانہ میں ایک ایسا روحانی مصلح مبعوث ہو گا جو اپنی صفات میں مسیح ناصری کا مثیل ہوگا اور حضرت مسیح کی خوبو پر آئے گا اس لئے اس کا آنا گویا خود مسیح ناصری کا آنا ہو گا۔آپ نے مثالیں دے دے کر ثابت کیا کہ روحانی سلسلوں میں جب کبھی بھی کسی بنی کی دوسری آمد کا وعدہ دیا جاتا ہے تو اس سے ہمیشہ اس کے مثیل کا آنا مراد ہوتا ہے جیسا کہ مثلاً حضرت مسیح ناصری کے زمانہ میں الیاس نبی کی دوسری آمد کا وعدہ یوحنا نبی کی بعثت سے پورا ہوا۔لے آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ قرآن شریف کی رو سے نہ صرف حضرت مسیح ناصری کا آسمان پر جانا ثابت نہیں بلکہ متعدد آیات سے ان کی وفات ثابت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ہی قرآن وحدیث سے یہ بھی ثبوت ملتا ہے کہ کوئی حقیقی مردہ زندہ ہو کر اس دنیا میں دوبارہ واپس نہیں آسکتا۔اور بالآخر آپ نے قرآن وحدیث سے یہ بھی ثابت کیا کہ جس مسیح کا اسلام میں وعدہ کیا گیا تھا اس کے متعلق قرآن وحدیث ہی اس بات کی تشریح کرتے ہیں کہ اس سے مسیح ناصری مراد نہیں بلکہ مثیل مسیح مراد ہے اور ان جملہ امور کے متعلق آپ نے ایسے زبر دست دلائل پیش کئے کہ آپ کے مخالف بالکل سراسیمہ ہوکر رہ گئے۔تاریخی رنگ میں بھی آپ نے اس بات کو ثابت کیا کہ حضرت مسیح ناصری گو خدائی تصرف کے ماتحت صلیب کی موت سے بچ گئے تھے مگر اس کے بعد وہ اپنے ملک سے ہجرت کر کے ہندوستان کے رستے کشمیر چلے گئے تھے اور وہیں اپنی طبعی موت سے فوت ہوئے۔الغرض آپ نے قرآن سے اور حدیث سے اور مسیحی نوشتوں سے اور تاریخ سے حضرت مسیح ناصری کی وفات ثابت کر کے اپنے مثیل مسیح ہونے کا ثبوت پیش کیا اور اس بحث کے دوران میں مندرجہ ذیل اہم مسائل پر نہایت زبردست روشنی ڈالی: (1) یہ کہ حضرت مسیح ناصری دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان تھے جو دشمنوں کی متی باب ۱۱ آیت نمبر ۱ تا ۱۷