سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 231 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 231

۲۳۱ کرے گا جو ان کی دینی غلطیوں کی اصلاح کر کے انہیں نئے سرے سے زندگی عطا کیا کرے گا۔“ اس پیشگوئی کے مطابق اسلام میں ہر صدی کے سر پر مسجد دمبعوث ہوتے رہے ہیں جو اسلام کے اندر ہو کر اور آنحضرت ﷺ کی غلامی کا جوا اپنی گردنوں پر رکھتے ہوئے اسلام کی تجدید اور مسلمانوں کی اصلاح کی خدمت سر انجام دیتے رہے ہیں۔چنانچہ حضرت عمر بن عبدالعزیز اور حضرت سید عبدالقادر صاحب جیلانی اور حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی اور حضرت شیخ احمد صاحب سرہندی مجددالف ثانی اور حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب دہلوی اور حضرت سید احمد صاحب بریلوی وغیرهم اسی مقدس لڑی کی مختلف کڑیاں ہیں۔اور مسلمانوں کا سواد اعظم ان بزرگوں کی ولایت اور مجددیت کا قائل اور معترف ہے۔سو حضرت مسیح موعود کا سب سے پہلا دعویٰ جو گویا آپ کے سب دعاوی کے لئے بطور بنیاد کے ہے یہی تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے قدیم وعدے کے مطابق اسلام کی چودھویں صدی کا مجدد بنا کر بھیجا ہے اور آپ نے اعلان کیا کہ چونکہ یہ زمانہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے ایک فساد عظیم کا زمانہ ہے اس لئے اس فساد کی اصلاح کے واسطے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ خاص طاقتیں بھی عطا کی ہیں جو اس زمانہ کے روحانی مصلح کے لئے ضروری ہیں۔آپ نے یہ دعویٰ براہین احمدیہ کی تصنیف کے زمانہ میں کیا تھا مگر چونکہ آپ کے اس دعوئی میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جو مسلمانوں کے کسی معروف عقیدہ کے خلاف ہو اور اس وقت تک آپ نے سلسلہ بیعت بھی شروع نہیں فرمایا تھا اس لئے اس دعویٰ پر آپ کی کوئی خاص مخالفت نہیں ہوئی اور جمہور مسلمانوں نے اسے ایک گونہ خاموش تصدیق کے ساتھ قبول کیا۔بعد میں جب مخالفت کا طوفان اٹھا تو حضرت مسیح موعود نے اپنے مخالفوں کے سامنے بار بار یہ بات پیش فرمائی کہ اگر تم میرے دعویٰ مجددیت کو قبول نہیں کرتے تو پھر کوئی اور شخص پیش کرو جس نے اس صدی کے سر پر مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ہومگر آپ کا کوئی مخالف اس چیلنج کا جواب نہیں دے سکا۔مسیحیت کا دعوی :۔حضرت مسیح موعود کا دوسرا دعوئی جس پر آپ کے خلاف ایک خطرناک دیکھو اشتہار منسلکہ براہین احمدیہ حصہ چہارم