سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 170 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 170

۱۷۰ مرز اصاحب سے ملنا چاہتا ہوں خود ان کے کیمپ میں تشریف لے گئے جہاں صاحب موصوف آپ کے ساتھ بڑی عزت کے ساتھ پیش آئے اور کے متعلق بہت سے سوالات پوچھتے رہے اور ملک کی سیاسی فضا کے متعلق بھی گفتگو ہوئی اور سر جیمز ولسن اس ملاقات سے بہت محظوظ اور خوش ہو کر واپس گئے لے قادیان میں دو امریکن سیاحوں کی آمد : اپریل ۱۹۰۸ء کے شروع میں ایک امریکن مرد اور ایک امریکن عورت جو امریکہ سے ہندوستان کی سیاحت کے لئے آئے تھے۔حضرت مسیح موعود کی ملاقات کے لئے قادیان آئے۔ان کے ساتھ لاہور کا ایک انگریز بھی تھا۔ان تینوں نے حضرت مسیح موعود سے ملاقات کی اور حضرت مسیح موعود انہیں بڑی محبت سے ملے اور ان کے سوالات کے جواب دیتے رہے۔آپ نے ان کے سامنے اپنا دعویٰ پیش کیا اور صبح کی بعثت ثانی کی حقیقت سمجھائی اور اپنے بعض نشانات بھی بیان کئے وہ آپ کی باتوں سے بہت متاثر ہوئے اور دورانِ گفتگو میں آپ سے کہا کہ کوئی نشان ہمیں بھی دکھایا جاوے۔آپ نے فرمایا کہ آپ غور کریں تو آپ کا وجود خود ایک نشان ہے۔انہوں نے گھبرا کر پوچھا وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا کہ آج سے چند سال پہلے میں یہاں بالکل گمنامی کی حالت میں پڑا تھا اور قادیان کا دور افتادہ گاؤں لوگوں کی نظروں سے بالکل مستور تھا۔اس وقت خدا نے مجھے خبر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ تجھے بڑی شہرت دے گا اور لوگ دور دراز سے تیری ملاقات کے لئے آئیں گے اور تیری نصرت کے لئے دور دراز سے سامان پہنچیں گے۔پھر اس کے بعد میری سخت مخالفت ہوئی مگر باوجود اس مخالفت کے خدا نے اپنے وعدہ کو پورا کر کے دکھا دیا چنانچہ آپ صاحبان کا یہاں آنا بھی اس پیشگوئی کے ماتحت ایک خدائی نشان ہے ورنہ کہاں امریکہ اور کہاں قادیان ! اس پر یہ لوگ بہت گھبرائے کہ ہم اپنے منہ سے ایک بات کہہ کر خودہی پکڑے گئے ہے اسی طرح بعض اور موقعوں پر بھی بعض یورپین اصحاب قادیان آتے رہے ہیں اور ہمیشہ حضرت مسیح موعود کی گفتگو سے آپ کی اعلیٰ روحانیت اور وسیع علمی نظر سے بہت متاثر ہوتے رہے الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۲ مورخه ۲۶ مارچ ۱۹۰۸ء صفحه ۲ کالم نمبر ۲ ۲ - تلخیص از الحکم جلد۱۲ نمبر ۲۶ مورخه ۱ را پریل ۱۹۰۸ء صفحه ۲۷۱