سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 111 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 111

= نے اس معاملہ میں قطعاً کوئی غور نہیں کیا اور محض سنی سنائی باتوں پر فتویٰ لگا دیا ہے۔ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ہتک صرف اس صورت میں سمجھی جاسکتی ہے کہ کوئی شخص آپ کی لائی ہوئی شریعت کو منسوخ کرے یا آپ سے آزاد ہو کر مستقل نبوت کا مدعی بنے۔مگر یہاں یہ دونوں باتیں نہیں ہیں۔بلکہ یہاں تو صرف یہ دعوی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی شریعت کی ماتحتی میں اور آپ کی شاگردی اور غلامی کے جوئے کے نیچے ہو کر خدا نے نبوت کا مرتبہ عطا کیا ہے اور ایک ادنی عقل کا آدمی بھی خیال کر سکتا ہے کہ یہ صورت آنحضرت ﷺ کی عزت اور آپ کے مقام کو بڑھانے والی ہے نہ کہ کم کرنے والی۔نبوت کیا ہے؟ نبوت ایک اعلیٰ روحانی مقام ہے جس میں خدا اپنے بندے کے ساتھ بکثرت کلام فرما تا اور اسے آئندہ کی خبروں سے اطلاع دیتا اور دنیا کی طرف اسے رسول بنا کر بھیجتا ہے۔اب غور کرو کہ کیا آنحضرت ﷺ کی عزت اس میں ہے کہ آپ کے بعد آپ کے ماننے والوں میں اس روحانی انعام کا سلسلہ بند ہو جائے یا کہ آپ کی عزت اس میں ہے کہ آپ کے فیض سے یہ سلسلہ پہلے سے بھی بڑھ چڑھ کر جاری رہے۔دراصل سارا دھوکا اس بات سے لگا ہے کہ نبوت کے معنوں کے متعلق غور نہیں کیا گیا اور ہر نبی کے لئے یہ ضروری سمجھا گیا ہے کہ وہ کوئی نئی شریعت لائے یا کم از کم اپنے سابقہ نبی سے آزاد ہو کر فیض نبوت پائے حالانکہ نبی کے لئے یہ دونوں باتیں لازمی نہیں اور جب یہ باتیں لازمی نہیں تو آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا رکھنے میں آپ کی ہتک نہیں بلکہ اس دروازے کے بند کرنے میں ہتک ہے۔میں تو یہ خیال کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کے ان عظیم الشان احسانوں میں سے جو آپ نے اسلام پر بلکہ دنیا پر کئے ہیں سب سے بھاری احسان یہ دو ہیں:۔اول یہ کہ آپ نے صحیفۂ فطرت کی طرح قرآنی علوم کو غیر محدود قرار دے کر اسلام کے علمی حصہ میں ایک غیر معمولی نمو اور ترقی کا دروازہ کھول دیا ہے اور ان اعتراض کرنے والوں کا منہ بند کر دیا ہے جو اس زمانہ کی ظاہری ترقی کو دیکھ کر یہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں چودہ سو سال پیچھے لے جانا چاہتے ہو اور آپ