سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 112 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 112

۱۱۲ نے صرف یہ دعوئی ہی نہیں کیا بلکہ عملاً قرآن کی نئی تفسیر پیش کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کے اندر موجودہ زمانہ کے ہر اعتراض کا جواب اور ہر زہر کا تریاق موجود ہے۔دوسرے آپ نے ختم نبوت کی صحیح اور سچی تشریح کر کے مسلمانوں کی گردنوں کو بلند کر دیا ہے اور دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ آنحضرت یہ خدا کی رحمت کے دروازے کو تنگ کرنے کے لئے نہیں آئے بلکہ وسیع کرنے کے لئے آئے ہیں اور یہ کہ آپ کے متبعین کے لئے ہر قسم کے روحانی انعام کا دروازہ کھلا ہے۔حضرت مسیح موعود اپنے ایک شعر میں آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:۔ہم ہوئے خیر ہم تجھ سے ہی اے خیر رسل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے افسوس کہ حضرت مسیح موعود کے ان عظیم الشان احسانوں کو دنیا نے آج نہیں پہچانا مگر وقت آتا ہے کہ وہ انہیں پہچانے گی اور اپنی عقیدت کے پھول آپ کے قدموں پر رکھ کر آپ پر درود اور سلام بیسجے گی۔مگر جیسا کہ آپ نے خود لکھا ہے اس وقت کا ایمان اس تھی کو بھی اپنے ساتھ لائے گا جو کسی شاعر نے اپنے اس شعر میں بیان کی ہے کہ :۔جب مر گئے تو آئے ہمارے مزار پر پتھر پڑیں صنم ترے ایسے پیار پر مغربی ممالک میں تبلیغ کا جوش اور حضرت مسیح موعود کو اس بات کی بڑی خواہش رہتی تھی کہ عیسائی ممالک میں اسلام کی تبلیغ کی جاوے اور ریویو آف ریلیجنز کا اجراء: آپ کی بعثت کی غرضوں میں سے ایک بڑی غرض یہی تھی کہ صلیبی مذہب کے زور کو توڑ کر اس کی جگہ اسلام کو قائم کیا جاوے۔دراصل آپ کو شرک سے انتہائی نفرت تھی اور آپ کی روح اس خیال سے سخت بے چین رہتی تھی کہ دنیا کے ایک وسیع حصہ میں ایک کمزور انسان کو جس میں کوئی خدائی کی بات نہیں پائی جاتی اور اس نے کبھی خدائی کا دعوی بھی نہیں کیا خدا بنایا جا رہا ہے۔آپ نے کئی جگہ لکھا ہے اور فرمایا بھی کرتے تھے کہ میں نے کشف کی حالت میں