سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 110 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 110

11 + ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزرچکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی 1 ان حوالہ جات اور اسی قسم کے بہت سے دوسرے حوالہ جات سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔اول یہ کہ گواوائل میں حضرت مسیح موعودا اپنے متعلق نبوت اور رسالت کی تاویل فرماتے تھے مگر بعد میں جب خدا نے آپ پر حق کھول دیا تو آپ نے کھلے طور پر رسالت اور نبوت کا دعویٰ کیا۔دوم یہ کہ آپ کا یہ دعوی آنحضرت ﷺ اور اسلام سے آزاد ہو کر نہیں تھا بلکہ آنحضرت ﷺ کی شاگردی اور غلامی میں ہو کر اور اسلام کی متابعت میں بروزی صورت میں دعوئی تھا۔اور اس دعویٰ کو آپ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کے خلاف نہیں سمجھتے تھے بلکہ اپنی نبوت کو آنحضرت ﷺ کی نبوت کا حصہ اور ظل قرار دیتے تھے۔مجھے اس امر میں زیادہ تشریح کی اس لئے ضرورت پیش آئی ہے که غیر تو خیر اعتراض کرتے ہی تھے بد قسمتی سے احمدی کہلانے والوں میں سے بھی ایک حصہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جو حضرت مسیح موعود کی ابتدائی تاویلات کی بناء پر آپ کے دعوی نبوت کا منکر ہے اور غیر احمدیوں کی طرح اسے آیت خاتم النبین کے خلاف سمجھتا ہے۔حالانکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے بار بار تشریح فرمائی ہے جس قسم کی نبوت کے آپ مدعی ہیں یعنی ظلی اور بروزی نبوت وہ ہرگز ہرگز آیت خاتم النبیین کے خلاف نہیں۔میں اپنے غیر احمدی ناظرین کے لئے اس جگہ یہ بات بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ خیال کرنا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلنے سے آنحضرت ﷺ کی ہتک لازم آتی ہے ایک نہایت ہی بودا اور سطحی خیال ہے اور یہ خیال صرف انہی لوگوں کے دل میں پیدا ہوتا ہے جنہوں حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۰ حاشیه صفحه ۵۰۳ - صفه ۱۵۴ حاشیه، صفحہ ۱۵۴۷۱۵۳۔اور صفحہ ۴۰۶ ، ۴۰۷۔