سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 103 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 103

۱۰۳ قدم بقدم ( مگر اس طرح کہ ہر اگلا قدم پچھلے قدم کی نسبت کسی قدر تیز اٹھتا تھا ) کامیابی کی چوٹی کی طرف چڑھتی چلی جا رہی تھی۔یہ ایک عجیب نظارہ تھا کہ مخالفت کی طاقتیں جماعت احمدیہ کو زور کے ساتھ نیچے کھینچ رہی تھیں۔خدائی ابتلاؤں کے بادل بھی ان پر بعض اوقات اندھیرا کر دیتے تھے اور گا ہے گا ہے ان کی اپنی کمزوریوں سے بھی ان کا سانس پھولنے لگتا تھا۔مگر انچ انچ۔چپہ چپہ۔بالشت بالشت۔ان کا قدم اوپر اٹھتا جارہا تھا۔اور جس طرح آنحضرت ﷺ کا دل بدر کی جنگ میں جو اسلام اور کفر کی موت وحیات کی جنگ تھی آپ کے سینہ میں اچھلتا اور گرتا تھا اور آپ بے چین ہو ہو کر یہ دعا کر رہے تھے کہ ”اے میرے آقا اگر آج یہ چھوٹی سی جماعت اس میدان میں ہلاک ہوگئی تو پھر دنیا کے پردے پر تجھے پوجنے والا کوئی نہیں رہے گا۔اسی طرح اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود کا دل انتہائی اضطراب اور کرب میں خدا کی رحمت کے ہاتھ کی طرف دیکھ رہا تھا کہ وہ کب آپ کی طرف لمبا ہوتا ہے۔اس جگہ یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ اس وقت تک جماعت احمدیہ کی تعداد قریباً تمیں ہزار تک پہنچ چکی تھی اور یہ تعداد صرف پنجاب تک محدود نہیں تھی بلکہ ہندوستان کے مختلف حصوں میں پائی جاتی تھی مثلاً صوبہ سرحد، کشمیر، یوپی بمبئی ، حیدر آباد دکن ، مدراس ، بہار، بنگال وغیرہ میں جماعت قائم ہو چکی تھی اور ہندوستان سے باہر بھی مشرقی افریقہ میں احمدیت کا خمیر پہنچ چکا تھا اور خال خال احمدی عرب وغیرہ ممالک میں بھی پائے جاتے تھے اور اس اشاعت کا باعث بیشتر طور پر حضرت مسیح موعود کی تصنیفات تھیں اور دوسرے درجہ پر آپ کے مخلصین کی تبلیغی کوششیں بھی اس میں محمد ہوئی تھیں جن میں سے ہر فرد ایک پر جوش مبلغ تھا۔مقدمہ دیوار اور ہرم دیوار : حضرت مسیح موعود کے خلاف جو مخالفت کا طوفان برپا تھا اس کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ آپ کے مخالفین نے آپ کے بعض رشتہ داروں کو اکسا کر انہیں بھی مخالفت میں کھڑا کر دیا تھا۔یہ لوگ بوجہ اپنی بے دینی اور بداخلاقی کے ویسے بھی حضرت مسیح موعود کے مخالف تھے لیکن مخالفوں نے انہیں اکسا اکسا کر اور بھی زیادہ تیز کر دیا تھا۔ان میں سے دو آدمی یعنی مرزا امام الدین