سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 104 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 104

۱۰۴ اور مرز انظام الدین صاحبان ایذا رسانی میں خاص طور پر بڑھے ہوئے تھے۔یہ دونوں حقیقی بھائی تھے اور حضرت مسیح موعود کے چچا کے لڑکے تھے مگر باوجود اس قرابت کے ان کے دلوں میں حضرت مسیح موعود کے چچا کے لڑکے تھے مگر باوجود اس قرابت کے ان کے دلوں میں حضرت مسیح موعود کی دشمنی کی آگ شعلہ زن تھی اور وہ کوئی موقعہ آپ کو دکھ پہنچانے کا ضائع نہیں جانے دیتے تھے اور چونکہ ان کا مکان حضرت مسیح موعود کے مکان کے ساتھ ملحق تھا اور ویسے بھی انہیں قادیان میں حقوق ملکیت حاصل تھے اس لئے ان کا وجود گویا ایک مار آستین کا رنگ رکھتا تھا۔حضرت مسیح موعود نے انہیں کبھی تکلیف نہیں دی بلکہ ہمیشہ احسان اور مروت کا سلوک کیا مگر باوجود اس کے ان کی مخالفت دن بدن بڑھتی ہی گئی۔بالآ خر ۱۹۰۰ء میں انہوں نے حضرت مسیح موعود اور آپ کے متبعین کو تنگ کرنے کی یہ تدبیر نکالی کہ سراسر ظلم اور سینہ زوری کے ساتھ اس رستہ کو دیوار کھینچ کر بند کر دیا جو حضرت مسیح موعود کے مہمان خانہ اور آپ کے گھر اور مسجد کو ملاتا تھا۔اس شرارت نے قادیان کے غریب احمدی مہاجرین پر ان کا عرصہ عافیت تنگ کر دیا کیونکہ اب انہیں مسجد میں آنے اور حضرت مسیح موعود سے ملنے کے لئے قصبہ کے اندر ایک بڑا چکر کاٹ کر پہنچنا پڑتا تھا اور ایسے حصوں میں سے گزرنا پڑتا تھا جو سلسلہ کے اشد معاندین سے آباد تھا۔آخر مجبور ہو کر حضرت مسیح موعود کو قانونی چارہ جوئی کرنی پڑی۔اور آپ کی زندگی میں یہی ایک منفرد مثال ہے کہ جب آپ کسی کے خلاف مدعی بنے۔آپ اب بھی اس پوزیشن میں نہیں آنا چاہتے تھے مگر وکلاء کا یہ مشورہ تھا کہ چونکہ یہ رستہ خاندان کا پرائیویٹ رستہ ہے اس لئے آپ کے سوا کسی اور شخص کو قانونی چارہ جوئی کا حق نہیں پہنچتا۔اس لئے مجبورا آپ کو مدعی بننا پڑا۔آخر ایک لمبے مقدمہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو فتح دی اور عدالت کے حکم سے یہ دیوار گرادی گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کامیابی پر خدا کا شکر ادا کیا اور خاموش ہو گئے۔اور آپ کو اس بات کا خیال بھی نہیں آیا کہ دوسرے فریقی پر خرچہ بھی پڑا ہے۔لیکن آپ کے وکیل نے