سلسلہ احمدیہ — Page 56
کسوف خسوف کا نشان: ۱۸۹۴ء میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی تائید میں ایک اور عظیم الشان نشان دکھایا اور وہ یہ کہ اس قدیم پیشگوئی کے مطابق جو مہدی معہود کے متعلق پہلے سے بیان کی جا چکی تھی ۱۸۹۴ء مطابق ۱۳۱۱ھ کے رمضان میں چاند اور سورج کو گرہن لگا۔یہ گرہن اپنی ذات میں کوئی خصوصیت نہیں رکھتا تھا کیونکہ گرہن ہمیشہ سے لگتے ہی آئے ہیں لیکن اس گرہن کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ اس کے متعلق پہلے سے معین تاریخیں بتا دی گئی تھیں کہ رمضان کے مہینہ میں فلاں فلاں تاریخوں میں چاند اور سورج کو گرہن لگے گا اور یہ کہ اس وقت ایک شخص مہدویت کا مدعی موجود ہو گا جو خدا کی طرف سے ہو گا۔چنانچہ ان سب شرائط کے ایک جگہ اکٹھے ہو جانے سے یہ گرہن ایک خاص نشان قرار دیا گیا تھا چنانچہ وہ حدیث جس میں یہ پیشگوئی درج تھی اس کے الفاظ یہ تھے کہ ” ہمارے مہدی کی یہ علامت ہوگی کہ اس کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند کو اس کے گرہن کی تاریخوں میں سے پہلی تاریخ میں گرہن لگے گا اور اسی مہینہ کے آخر میں سورج کو اس کے گرہن کی تاریخوں میں سے درمیانی تاریخ میں گرہن لگے گا۔لے گویا اس نشان کے لئے اتنی شرائط ضروری قرار دی گئیں۔اوّل ایک مدعی مہدویت پہلے سے موجود ہو۔دوم رمضان کا مہینہ ہو۔سوم اس مہینہ کی تیرھویں تاریخ کو ( کیونکہ چاند کے گرہن کے لئے یہی پہلی تاریخ ہے) چاند کو گرہن لگے۔اور چہارم اسی مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ کو ( کیونکہ سورج کے گرہن کے لئے یہی درمیانی تاریخ ہے ) سورج کو گرہن لگے۔ان شرائط کے ساتھ یہ نشان ایک عظیم الشان نشان قرار پاتا ہے اور لطف یہ ہے کہ ۱۸۹۴ء کے رمضان میں عین انہی شرائط کے ساتھ چاند اور سورج کو گرہن لگا اور حضرت مسیح موعود نے تحدی کے ساتھ اس دعوئی کو پیش کیا کہ ان چار شرائط کے ساتھ یہ نشان اس سے پہلے کبھی ظاہر نہیں ہوا اور آپ نے اپنے مخالفوں کو چیلنج دیا کہ اگر ایسا نشان پہلے کبھی گزرا ہے تو اس کی مثال پیش کر ونگر کوئی شخص اس کی مثال پیش نہیں کر سکا۔اور پھر لطف یہ ہے کہ اس نشان کی طرف قرآن شریف نے بھی اشارہ کیا ہے کہ آخری زمانہ میں چاند اور سورج کو خاص حالات میں گرہن لگے گا۔ہے اور انجیل میں بھی حضرت 66 لسنن الدار قطنى۔كتاب العيدين۔باب صفة صلاة الخسوف والكسوف وهيئتها سورۃ قيامة رکوع نمبرا - القيامة : ١٠