سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 55 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 55

۵۵ تھی اور پنجاب و ہندوستان میں ہزاروں علماء ایسے موجود تھے جو کتابی علم میں آپ سے بہت آگے تھے لیکن جب خدا نے آپ کو اسلام کی خدمت کے لئے مبعوث کیا اور آپ کو قر آنی علوم سے مالا مال کیا تو اس کے ساتھ ہی آپ کو خارق عادت رنگ میں عربی کا علم بھی عطا کیا چنانچہ سب سے پہلے آپ نے ۱۸۹۳ء میں علماء کو دعوت دی کہ وہ آپ کے سامنے آکر عربی نویسی میں مقابلہ کر لیں۔اس کے کچھ عرصہ بعد آپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ مجھے خدا کی طرف سے ایک رات میں عربی کا چالیس ہزار مادہ سکھایا گیا ہے اور خدا نے مجھے عربی میں ایسی کامل قدرت عطا فرمائی ہے کہ اس کے مقابلہ میں کوئی دوسرا شخص نہیں ٹھہر سکتا خواہ وہ ہندی ہو یا مصری یا شامی۔آپ نے بڑی تحدی کے ساتھ اور بار بار اپنے اس دعویٰ کو پیش کیا اور آخری عمر تک اسے دہراتے رہے مگر کسی کو آپ کی عربی تصانیف کے مقابلہ میں لکھنے کی جرات نہیں ہوئی۔آپ نے یہ بھی لکھا کہ اگر کوئی ایک فرد اس مقابلہ کی جرات نہیں کر سکتا تو میری طرف سے اجازت ہے کہ سب مل کر میرے مقابل پر آؤ اور میرے جیسی فصیح اور بلیغ اور معارف سے پر عربی لکھ کر دکھاؤ مگر کوئی شخص سامنے نہیں آیا۔شروع شروع میں ہندوستانی علماء نے یہ کہہ کر بات کو ٹالا کہ شاید آپ نے کوئی عرب چھپا کر رکھا ہوا ہے مگر جب آپ نے اپنے چیلنج کو عربوں اور مصریوں اور شامیوں تک وسیع کر دیا تو پھر یہ سب لوگ جھاگ کی طرح ٹھنڈے ہو کر بیٹھ گئے۔پھر لطف یہ ہے کہ آپ کی عربی تصانیف صرف نثر میں ہی نہیں تھیں بلکہ آپ نے بہت سی عربی نظمیں بھی لکھیں جن میں سے بعض بہت لمبی لمبی نظمیں ہیں اور ہر بحر اور ہر قافیہ میں ہیں اور ان میں فصاحت اور بلاغت کو اس کمال تک پہنچایا کہ اہل زبان بھی دنگ رہ گئے۔نثر میں بھی آپ نے ہر رنگ میں کلام لکھا یعنی مقفی بھی غیر مقفی بھی مسجع بھی غیر مسبع بھی۔آسان بھی اور مشکل بھی اور ادب کے ہر میدان میں اپنے گھوڑے کو ڈالا اور شاہسواری کا حق ادا کر دیا۔آپ کی عربی تصانیف کی کل تعداد اکیس ہے جن میں التبليغ - حمامة البشری - من الرحمن لجۃ النور - خطبہ الہامیہ۔الہدی۔اعجاز مسیح اور سیرۃ الا بدال خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔