سلسلہ احمدیہ — Page 40
۴۰ غیر متعصب نظر کے ساتھ حالات کا مطالعہ کریں گی تو اس وقت ساری دنیا جان لے گی کہ یہ تبدیلی محض احمدیت کی تعلیم کے اثر کے ماتحت وقوع میں آئی ہے۔دوسرا زریں اصول جو آپ نے بین المذاہب اختلافات کے لئے پیش کیا وہ یہ تھا کہ ہر مذہب کا یہ فرض ہے کہ جہاں تک کم از کم اصول مذہب کا تعلق ہے وہ اپنے دعوئی اور دلیل ہر دو کو اپنی مقدس کتاب سے نکال کر پیش کرے تا کہ یہ ثابت ہو کہ بیان کردہ دعوی متبعین کا بنایا ہوا نہیں ہے بلکہ خود بائی مذہب کا پیش کردہ ہے۔سلے مثلاً آپ نے فرمایا کہ حضرت مسیح ناصری کی خدائی کا دعوی ہرگز قابل توجہ نہیں ہو گا۔جب تک کہ عیسائی صاحبان اس دعوی کو انجیل سے ثابت کر کے نہ دکھا ئیں اور پھر خود انجیل سے ہی اس کے چند دلائل بھی پیش نہ کریں۔آپ نے فرمایا کہ آجکل اکثر مذاہب میں یہی فساد برپا ہے کہ مذاہب کی کتب مقدسہ کی طرف ایسے خیالات اور ایسے دعاوی منسوب کئے جار ہے ہیں جو دراصل ان مذاہب کے پیش کردہ نہیں ہیں بلکہ خود لوگوں کے اپنے بنائے ہوئے ہیں اور اس طرح مذاہب کی اصل شکل وصورت بدل کر کچھ کی کچھ ہوگئی ہے۔آپ نے تحدی کے ساتھ بیان کیا کہ حضرت مسیح ناصری کی اصل تعلیم تو حید اور رسالت کے اصول پر مبنی تھی مگر بعد میں آنے والوں کی دست برد اور حاشیہ آرائی سے اس نے ایک بالکل اور ہی رنگ اختیار کر لیا اور تثلیث اور کفارہ کے مشرکانہ خیالات داخل ہو گئے ہے اسی طرح ویدوں کی اصل تعلیم میں قدامت روح و مادہ وغیرہ کا کوئی نشان نہیں ہے مگر بعد میں آنے والوں نے یہ خیالات وید کی طرف منسوب کرنے شروع کر دیئے۔لیکن اگر اس اصول کو اختیار کیا جاوے کہ ہر مذہبی کتاب اپنا دعویٰ خود پیش کرے اور پھر خود ہی اس کی دلیل لائے تو یہ سارا پول کھل جاتا ہے اور مذہب کی اصل تعلیم ننگی ہو کر سامنے آ جاتی ہے جب آپ نے یہ اصول امرتسر والے مناظرہ میں عیسائی صاحبان کے سامنے پیش کیا تو ان کے اوسان خطا ہو گئے مگر نتیجہ پھر بھی وہی تھا جو عموماً مذہبی مناظروں کا ہوا کرتا ہے کہ دنیا کی عزت کی خاطر صداقت کی طرف سے آنکھیں بند رکھی گئیں۔لے دیکھو جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۸۹ صفحه ۰۱ او صفحه ۱۳۲