سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 41 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 41

۴۱ قرآنی علوم کے غیر محدود ہونے اس زمانہ میں آپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ موجودہ زمانہ کے کا دعوی اور تفسیر نویسی کا چیلنج۔مسلمانوں کا یہ خیال کہ قرآن شریف کے علوم سلف صالحہ یا گذشتہ علماء کی بیان کردہ باتوں پر ختم ہو چکے ہیں اور جو کچھ انہوں نے فرما دیا یا لکھ دیا اس پر قرآنی تفسیر کا خاتمہ ہے ایک بالکل غلط اور مہلک خیال ہے اور آپ نے لکھا کہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ جس طرح یہ ظاہری دنیا ایک مادی عالم ہے جس میں سے ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق مادی خزانے نکلتے رہتے ہیں اسی طرح قرآن شریف ایک روحانی عالم ہے جس کے روحانی اور علمی خزانے کبھی ختم نہیں ہوں گے اور ہر زمانے کی ضرورت کے مطابق نکلتے رہیں گے اور اس طرح قرآنی شریعت کے مکمل ہو چکنے کے باوجود اسلام کے علمی حصہ میں نمو اور ترقی کا سلسلہ جاری رہے گا اور یہی قرآن شریف کا بڑا معجزہ ہے لے اسی اصل کے ماتحت آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے قرآن شریف کی خدمت کے لئے مبعوث کیا ہے اس لئے مجھے قرآن کی وہ سمجھ عطا کی گئی ہے جو موجودہ زمانہ میں کسی اور کو عطا نہیں کی گئی اور مجھے یہ طاقت دی گئی ہے کہ میں اس زمانہ کی ضرورت کے مطابق قرآن شریف سے ایسے نئے نئے علمی اور روحانی خزانے نکال کر دنیا کے سامنے پیش کروں جو پہلے کبھی پیش نہیں کئے گئے اور آپ نے تحدی کے ساتھ لکھا کہ اس زمانہ میں دنیا کا کوئی شخص اس بات میں میرا مقابلہ نہیں کر سکتا۔چنانچہ آپ نے بار بار چیلنج کر کے لوگوں کو بلایا کہ اگر کسی میں ہمت ہے تو میرے سامنے آ کر قرآن کی تفسیر نویسی میں مقابلہ کر لے۔۲ مگر کسی کو ہمت نہیں ہوئی۔آپ نے دوسرے مذاہب والوں کو بھی بار بار دعوت دی کہ وہ میرے مقابل پر آ کر اپنی اپنی مذہبی کتابوں کے حقائق و معارف بیان کریں اور میں قرآن کے حقائق و معارف بیان کروں گا اور پھر دیکھا جاوے کہ کس کی کتاب زیادہ بہتر اور زیادہ معارف کا خزانہ ہے اور کون فریق حق پر ہے اور کون باطل پر مگر کوئی شخص آپ کے سامنے نہ آیا۔ا ازالہ اوہام صفحہ ۱۲۸ تا ۱۳۵ و صفحه ۲۷۶، ۲۷۷ - (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۵۵ ۲۵۶) سے یہ چیلنج اشارہ ازالہ اوہام میں موجود ہے مگر تصریح کے ساتھ پہلی مرتبہ آئینہ کمالات اسلام میں آیا ہے۔خاکسار مؤلف آئینہ کمالات اسلام ، رحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۰۳۶۰۲)