سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 39 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 39

۳۹ اور اسلام اور دوسرے مذاہب کے باہمی اختلافات کے تصفیہ کے متعلق دو ایسے زریں اصول پیش کئے جنہوں نے مذہبی علم کلام میں ایک انقلاب پیدا کر دیا۔پہلا اصول آپ نے اسلام کے اندرونی اختلافات کے متعلق یہ پیش کیا کہ اسلام میں اندرونی فیصلوں کی اصل کسوٹی قرآن شریف ہے نہ کہ حدیث یا بعد کے ائمہ کے اقوال وغیرہ۔اس اصول نے اس گندے علم کلام کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا جو ایک عرصہ سے اسلامی مباحثات کو مکدر کر رہا تھا جس کی وجہ سے قرآن شریف تو پس پشت ڈال دیا گیا تھا اور ہر فرقہ نے اپنے مطلب کی حدیثوں یا اپنے ائمہ کے اصوال کو قرآن پر قاضی اور حاکم بنارکھا تھا۔آپ نے بدلائل ثابت کیا کہ اسلام کی اصل بنیاد قرآن شریف پر ہے اور حدیثوں وغیرہ کو صرف ایک خادم کی حیثیت حاصل ہے۔پس اگر کوئی حدیث یا کسی امام کا قول کسی آیت قرآنی کے ساتھ ٹکرائے تو وہ اسی طرح پھینک دینے کے قابل ہے جس طرح اسلام کے مقابل پر ایک خلاف اسلام چیز پھینک دی جاتی ہے۔یے اور آپ نے یہ تشریح فرمائی کہ کسی حدیث کو رد کرنے کے یہ معنے نہیں ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ کے قول کو رد کرتے ہیں بلکہ اس سے صرف یہ مراد ہے کہ یہ حدیث آنحضرت علی کی طرف غلط طور پر منسوب ہوئی ہے۔اسی تعلق میں آپ نے بعد میں اس بات کو بھی واضح فرمایا کہ حدیث اور سنت دو مختلف چیزیں ہیں کیونکہ جہاں سنت سے آنحضرت ﷺ کا تعامل مراد ہے جو قرآن کے ساتھ ساتھ وجود میں آ کر صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین کے ذریعہ عملی صورت میں نیچے پہنچا ہے وہاں حدیث سے وہ اقوال مراد ہیں جو لوگوں کے سینوں سے ڈیڑھ دو سو سال بعد میں جمع کئے گئے ہیں۔اس طرح آپ نے اسلام کی اصل بنیاد قرآن اور سنت پر قرار دی اور حدیث کو صرف ایک خادم کی صورت میں پیش کیا۔یہ ایک نہایت عجیب نکتہ تھا جس نے اسلامی علم کلام کی صورت کو بالکل بدل دیا اور شکر ہے کہ آج غیر احمدی دنیا بھی آہستہ آہستہ اسی نکتہ کی طرف آ رہی ہے۔بے شک وہ ابھی تک اس بارے میں حضرت مسیح موعود کے احسان کو نہیں مانتی بلکہ ان میں سے اکثر لوگ اس تبدیلی کو محسوس بھی نہیں کرتے مگر واقف کار لوگ جانتے ہیں کہ اس تبدیلی کا اصل باعث کیا ہے اور جب بعد کی نسلیں الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۱۲۱۱