سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 399 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 399

۳۹۹ چہ میگوئی شروع ہوئی اور وہ آپس میں کہنے لگے کہ اس غلامی سے نجات پانے کا کوئی رستہ تلاش کرنا چاہئے۔اس قسم کے حالات میں حکومت کشمیر کے بعض جلد باز افسروں نے اہل کشمیر کے ایک جلسہ میں گولی چلا دی۔اس واقعہ کے نتیجہ میں شمالی ہندوستان میں بہت شور اٹھا کہ اس ظلم کا دروازہ بند ہونا چاہئے۔اس پر حضرت خلیفہ اسی کو ایک موقعہ ہاتھ آ گیا اور آپ نے متفرق مسلمان لیڈروں کے نام تاریں بھجوائیں کہ ہمیں اس بارے میں کشمیریوں کی امداد کے لئے کچھ اقدام کرنا چاہئے۔ان لیڈروں میں ہندوستان کے مشہور شاعر اور فلسفی ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب اور دہلی کے نامور انشا پرداز اور سجاده نشین خواجہ حسن نظامی صاحب اور بعض دوسرے مسلمان لیڈر شامل تھے۔چنانچہ تجویز ہوئی کہ شملہ میں ایک میٹنگ کر کے غور کیا جائے کہ کیا کرنا مناسب ہوگا اور اس میٹنگ کے لئے ۲۵ اگست ۱۹۳۱ء کی تاریخ مقرر ہوئی۔جب حضرت خلیفہ اسیح شملہ میں پہنچے اور مجوزہ میٹنگ ہوئی تو آپ نے مسلمان لیڈروں کو بہت ہی پژمردہ اور مایوس پایا اور اکثر لوگوں کی زبان سے یہی فقرہ سنا کہ حالات بہت خراب ہیں اور کچھ ہوتا نظر نہیں آتا۔حضرت خلیفہ امسیح کے زور دینے پر کہ بہر حال کچھ کرنا چاہئے ان اصحاب نے اپنے گلے سے بوجھ اتارنے کے لئے کہہ دیا کہ اچھا اگر آپ کو کچھ امید ہے تو ایک کمیٹی بنادی جائے اور آپ اس کے صدر بن جائیں اور پھر اس معاملہ میں جو کچھ ہوسکتا ہو وہ کیا جائے۔آ نے فرمایا کہ میرا صدر بننا مناسب نہیں کیونکہ یہ عام اسلامی سوال ہے اور میرے آگے آنے سے خواہ نخواہ بعض حلقوں میں فرقہ وارانہ سوال پیدا ہو جائے گا اور کام کو نقصان پہنچے گا اس لئے کوئی اور صاحب صدر بنیں اور میں ان کی قیادت میں کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔مگر چونکہ مسلمان لیڈر بالکل مایوس ہورہے تھے ان میں سے ہر شخص نے صدر بننے سے انکار کیا اور ایک آل انڈ یا کشمیر کمیٹی تجویز کر کے حضرت خلیفہ امسیح کو اس کا صدر بنادیا گیا۔اس کمیٹی کے ممبر ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب۔خواجہ حسن نظامی صاحب۔خان بہادر شیخ رحیم بخش صاحب پنشنر سشن بج۔ملک برکت علی صاحب ایڈووکیٹ ایڈیٹر صاحب انقلاب اور بعض دوسرے اصحاب قرار پائے اور سیکرٹر مولوی عبدالرحیم صاحب درد سابق مبلغ لندن مقرر کئے گئے اور کام شروع ہو گیا۔