سلسلہ احمدیہ — Page 398
۳۹۸ کے حصہ میں تو نوے فیصدی کے قریب مسلمان ہیں اور جموں اور دوسرے علاقوں کو ملا کر بھی مسلمانوں کی آبادی کم و بیش ستر فی صدی ہے۔مگر چونکہ یہ ریاست ایک عرصہ سے ہندو فرمانرواؤں کے قبضہ میں چلی آئی ہے اور استبدادی حکومت کا غلبہ رہا ہے اس لئے اس کی مسلمان آبادی بہت دبی ہوئی حالت میں رہی ہے حتی کہ خالص کشمیر کے حصہ میں تو ان کی حالت قریباً قریباً غلاموں کے برابرتھی۔نہ صرف یہ کہ حکومت کے معاملات میں مسلمانوں کی آواز کا کوئی دخل نہیں تھا بلکہ ہر رنگ میں مسلمان غیروں کی ایڑی کے نیچے پیسے جارہے تھے۔ملازمتوں میں ان کا حصہ قریب نہ ہونے کے برابر تھا۔زمینوں پر انہیں حقوق مالکانہ تک حاصل نہ تھے۔اور زمینوں کی فصل پر بھی ریاست کا قبضہ ہو جاتا تھا جو اپنی مرضی کے مطابق جو قیمت چاہتی تھی زمینداروں کو ادا کرتی تھی۔زمینوں کا گھاس ریاست کی ملکیت تھا جس پر انہیں بغیر ٹیکس کے جانور تک چرانے کی اجازت نہیں تھی۔بیگار اس حد تک تھی کہ چھوٹے سے چھوٹا افسر جب جی چاہے مسلمان آبادی کو جنگل کے جانوروں کی طرح پکڑ کر اپنے کام پر لگا لیتا تھا۔تعلیم میں مسلمان از حد پیچھے تھے اور پریس کا تو وجود ہی مفقود تھا کیونکہ عملاً کسی اخبار یا رسالہ کے شائع کرنے کی اجازت نہیں تھی۔اس قسم کے حالات میں رہتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کے اخلاق بالکل پست ہو گئے تھے اور ان کی حیثیت غلاموں سے بڑھ کر نہیں تھی۔حضرت خلیفہ اسی خانی کئی دفعہ کشمیر گئے اور ان حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ہر دفعہ ایک دردمند دل کے ساتھ پیچ و تاب کھا کر خاموش ہو جاتے رہے کیونکہ کشمیریوں کے جسم اور ان کی روحیں اس حد تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھیں کہ بظا ہر حالات کوئی خلاصی کا رستہ نظر نہیں آتا تھا۔لیکن بالآ خر خدا نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ ان سیاہ بادلوں کی تاریک گھٹاؤں میں روشنی کی چمک نظر آنے لگی۔یہ اس طرح ہوا کہ ایک انصاف پسند انسان جو کشمیر میں وزیر اعظم رہ چکا تھا وہ جب اپنے عہدہ کے فرائض سے سبکدوش ہو کر واپس آیا تو اس نے بعض اخبارات میں اس قسم کے مضامین لکھے کہ کشمیر کے لوگوں کی حالت نہایت گری ہوئی اور از حد قابل رحم ہے۔اور اس نے بعض مثالیں دے دے کر اہل کشمیر کی مظلومانہ تصویر کو منقش کیا۔اس پر کشمیر کے بعض پڑھے لکھے لوگوں میں