سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 400 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 400

۴۰۰ چونکہ حضرت خلیفہ اسیح سے خدا تعالیٰ نے اسیروں کی رستگاری کا کام لینا تھا اس لئے آپ کی طرف سے کام میں ہاتھ پڑتے ہی دن بدن حیرت انگیز تغیرات ہونے لگے اور خدا نے آپ کو ہر قدم پر ایسی معجزانہ کامیابی عطا فرمائی کہ چند ماہ کے قلیل عرصہ میں گویا ریاست کی کنفی آپ کے ہاتھ میں تھی۔کشمیر کے دبے ہوئے لوگ جو ایک مردہ کی طرح قبروں میں پڑے تھے صور اسرافیل کے پھونکے جانے کی طرح سے قبروں سے کود کر باہر نکل آئے اور اس وسیع ریاست کے ایک کنارے سے لے کر دوسرے کنارے تک زندگی کی لہر دوڑ گئی۔یقیناً یہ کام فرشتوں کی مخفی فوج نے حضرت خلیفہ المسیح کو برومند کرنے کے لئے کیا مگر اس کے ظاہری اسباب میں اس بات کا بھی بہت بھاری دخل تھا کہ حضرت خلیفہ اسیح نے ان ایام میں دن رات ایک کر کے زمین اور آسمان کی طاقتوں کو جگا دیا۔آپ نے چند ہوشیار اور قابل آدمیوں کو منتخب کر کے جن میں مولوی عبدالرحیم صاحب درد اور مولوی محمد اسمعیل صاحب غزنوی زیادہ نمایاں تھے کشمیر بھجوایا جنہوں نے ایک طرف تو حضرت خلیفتہ المسیح کی ہدایات کے ماتحت کشمیر کے بعض جو شیلے نو جوانوں کو اپنے ساتھ ملایا اور دوسری طرف ریاست کے ارباب حل و عقد پر بھی دباؤ ڈالنا شروع کیا اور ریاست کے اندر پے در پے جلسے کر کے اور جتھے اور پارٹیاں بنا کر ریاست میں ایک آگ لگا دی۔دوسری طرف حضرت خلیفہ ایسیح نے اپنے نمائندوں کے ذریعہ نہ صرف حکومت ہند پر اثر ڈالنا شروع کیا بلکہ ولایت کے سرکردہ اصحاب میں بھی حرکت پیدا کر دی اور اخباروں کے پراپیگنڈا کا تو کہنا ہی کیا ہے۔وہ ان دنوں میں اس طرح گونج رہے تھے جس طرح پہاڑوں کے اندر ایک بھاری ہجوم کا نعرہ گونجتا ہے۔ان ایام میں حالات نے اس قدر جلدی جلدی پلٹا کھایا کہ جیسے ایک تیز رو ظلم کی تصویریں سینما کے پردے پر دوڑتی ہیں اور خود حضرت خلیفتہ اسیح کا یہ حال تھا اور یہ میں اپنا ذاتی مشاہدہ بیان کرتا ہوں کیونکہ میں اکثر موقعوں پر آپ کے ساتھ رہا کہ آپ اس عرصہ میں گویا ہر وقت پا در رکاب تھے۔آج یہاں ہیں تو کل لاہور اور پرسوں دلی اور اتر سوں وزیر آباد اور اگلے دن سیالکوٹ اور پھر راولپنڈی