سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 317 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 317

۳۱۷ وصف قرآن شریف کی محبت تھی جو حقیقۂ عشق کے درجہ تک پہنچی ہوئی تھی۔خاکسار نے بے شمار دفعہ دیکھا کہ قرآن شریف کی تفسیر بیان کرتے ہوئے آپ کے اندر ایک عاشقانہ ولولہ کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی۔آپ نے اوائل زمانہ سے ہی قادیان میں قرآن شریف کا درس دینا شروع کر دیا تھا جسے اپنی خلافت کے زمانہ میں بھی جاری رکھا اور آخر تک جب تک کہ بیماری نے بالکل ہی نڈھال نہیں کر دیا اسے نبھایا۔طبیعت نہایت سادہ اور بے تکلف اور انداز بیان بہت دلکش تھا اور گو آپ کی تقریر میں فصیحانہ گرج نہیں تھی مگر ہر لفظ اثر میں ڈوبا ہوا نکلتا تھا۔مناظرہ میں ایسا ملکہ تھا کہ مقابل پر خواہ کتنی ہی قابلیت کا انسان ہو وہ آپ کے برجستہ جواب سے بے دست و پا ہوکر سر دھنتا رہ جاتا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ خود فرماتے تھے کہ فلاں معاند اسلام سے میری گفتگو ہوئی اور اس نے اسلام کے خلاف یہ اعتراض کیا اور میں نے سامنے سے یہ جواب دیا۔اس پر وہ تلملا کر کہنے لگا کہ میری تسلی نہیں ہوئی گو آپ نے میرا منہ بند کر دیا ہے۔فرمانے لگے میں نے کہا تسلی دینا خدا کا کام ہے۔میرا کام چپ کرا دینا ہے تا کہ تمہیں بتا دوں کہ اسلام کے خلاف تمہارا کوئی اعتراض چل نہیں سکتا۔یہ درست ہے کہ ان معاملات میں حضرت مسیح موعود کا طریق اور تھا یعنی آپ مخالف کو چپ کرانے کی بجائے اس کی تسلی کرانے کی کوشش فرماتے تھے اور گفتگو میں مخالف کو خوب ڈھیل دیتے تھے مگر ہر اک کے ساتھ خدا کا جدا گانہ سلوک ہوتا ہے اور یہ بھی ایک شان خداوندی ہے کہ قصم تسلی پائے یا نہ پائے مگر دلیل ہو کر خاموش ہو جائے۔اسی لئے کسی کہنے والے نے کہا ہے کہ:۔” ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است حضرت خلیفہ اول کے دل میں حضرت مسیح موعود کی اطاعت کا جذبہ اس قدر غالب تھا کہ ایک دفعہ جب ۱۹۰۵ء میں حضرت مسیح موعود د بلی تشریف لے گئے اور وہاں ہمارے نانا جان مرحوم یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب بیمار ہو گئے تو ان کے علاج کے لئے حضرت مسیح موعود نے حضرت مولوی صاحب کو قادیان میں تار بھجوائی کہ بلا توقف دہلی چلے آئیں۔جب یہ تار قادیان پہنچی تو