سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 316 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 316

۳۱۶ میں چاروں طرف سے گولیاں برس رہی ہوں یہ خدا کا فضل تھا کہ حضرت خلیفہ اول کی دور بین آنکھ نے اپنی بیماری کے ایام میں اپنے قدیم طریق کے مطابق اپنی جگہ نمازوں کی امامت اور جمعہ کے خطبات کے لئے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو مقرر کر رکھا تھا ورنہ اگر پریس کے ایک حصہ کے ساتھ ساتھ جماعت کے خطبات کا منبر بھی ان لوگوں کے ہاتھ میں چلا جاتا تو پھر بظاہر حالات بڑے فتنہ کا احتمال تھا۔بیماری کی شدت کے ایام میں حضرت خلیفہ اول کو ان حالات کی خبر نہیں تھی جو باہر گز ر ر ہے تھے مگر مسیح محمدی کی گود میں پرورش پایا ہواد ماغ خود اپنی جگہ مصروف کار تھا چنانچہ جب حضرت خلیفہ اول نے محسوس کیا کہ اب میرا وقت قریب ہے تو آپ نے ۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو ایک وصیت تحریر فرمائی کہ جس کا مال یہ تھا کہ آپ کے بعد جماعت کسی متقی اور عالم باعمل اور ہر دلعزیز شخص کو آپکا جانشین منتخب کر کے اس کے ہاتھ پر جمع ہو جائے اور پھر آپ نے اس وصیت کو معززین جماعت کی ایک مجلس میں جس میں مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے اور ان کے بعض رفقا بھی شامل تھے خودمولوی محمد علی صاحب سے بلند آواز کے ساتھ پڑھوایا اور اس پیغام حق کو سب تک پہنچا کر وصیت کو نواب محمد علی خاں صاحب کے پاس محفوظ کروا دیا۔اس کے بعد آپ نے زیادہ مہلت نہیں پائی اور ۱۳/ مارچ ۱۹۱۴ء کو جمعہ کے دن سوا دو بجے بعد دو پہر قریباً ۷۸ سال کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کر کے اپنے محبوب حقیقی کے پاس حاضر ہو گئے ہے اللهُمَّ ارْحَمْهُ وَارْفَعُ مَقَامَهُ فِي الْعِلْمِينَ - حضرت خلیفہ اول کا بلند مقام : حضرت خلیفہ اول کا پایہ حقیقہ نہایت بلند تھا اور جماعت احمدیہ کی یہ خوش قسمتی تھی کہ اسے حضرت مسیح موعود کے بعد جبکہ ابھی جماعت میں کوئی دوسرا شخص اس بوجھ کے اٹھانے کا اہل نظر نہیں آتا تھا ایسے قابل اور عالم اور خدا ترس شخص کی قیادت نصیب ہوئی۔حضرت خلیفہ اول کو علمی کتب کے جمع کرنے کا بہت شوق تھا چنانچہ زر کثیر خرچ کر کے ہزاروں کتابوں کا ذخیرہ جمع کیا اور ایک نہایت قیمتی لائبریری اپنے پیچھے چھوڑی مگر آپ کا سب سے نمایاں الفضل مورخہا ار مارچ ۱۹۱۴، صفحہ ۲ الفضل مورخہ ۱۸؍ مارچ ۱۹۱۴ صفحه ا