سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 318 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 318

۳۱۸ حضرت مولوی صاحب اپنے مطب میں بیٹھے ہوئے درس و تدریس کا شغل کر رہے تھے۔اس تار کے پہنچتے ہی آپ بلا توقف وہیں سے اٹھ کر بغیر گھر گئے اور بغیر کوئی سامان یازاد راہ لئے سیدھے بٹالہ کی طرف روانہ ہو گئے جو ان ایام میں قادیان کا ریلوے سٹیشن تھا۔کسی نے عرض کیا۔حضرت بلا توقف آنے کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ آپ گھر جا کر سامان بھی نہ لیں اور اتنے لمبے سفر پر یوں خالی ہاتھ روانہ ہو جائیں۔فرمایا۔امام کا حکم ہے کہ بلا توقف آؤ اس لئے میں اب ایک منٹ کے توقف کو بھی گناہ خیال کرتا ہوں اور خدا خود میرا کفیل ہو گا۔خدا نے بھی اس نکتہ کو ایسا نوازا کہ بٹالہ کے سٹیشن پر ایک متمول مریض مل گیا جس نے آپ کو پہچان کر آپ کا بڑا اکرام کیا اور دہلی کا ٹکٹ خرید دینے کے علاوہ ایک معقول رقم بھی پیش کی۔اکثر فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود مجھے ارشاد فرما ئیں کہ اپنی لڑکی کسی چوہڑے کے ساتھ بیاہ دولے تو بخدا مجھے ایک سیکنڈ کے لئے بھی تامل نہ ہو۔یقیناً ایسا پاک جو ہر دنیا میں کم پیدا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود کو بھی حضرت مولوی صاحب کے ساتھ از حد محبت تھی۔اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں:۔چہ خوش بُو دے اگر ہر یک زِاُمت نور دیں کو دے ہمیں بُو دے اگر ہر دل پر از نور یقیں کو دے یعنی کیا ہی اچھا ہوا گر قوم کا ہر فردنور دین بن جائے۔مگر یہ تو تب ہی ہوسکتا ہے کہ ہر دل یقین کے نور سے بھر جائے۔لے ہندوستان میں چوہڑہ ایک نہایت ادنی اور ذلیل قوم مجھی جاتی ہے جس کے افراد نیم وحشیوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں اور گھروں میں پاخانہ کی صفائی کا کام کرتے ہیں۔